امام بخش ناسخ – رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا
رات بھر جو سامنے آنکھوں کے وہ مہ پارہ تھا
غیرت مہتاب اپنا دامن نظارہ تھا
بن گئے گرداب سیل اشک جائے گرد باد
ابر تر کی طرح میں جس دشت میں آوارہ تھا
تو نے آنکھیں پھیر لیں یاں کام آخر ہو گیا
طائر جاں پائے بند رشتۂ نظارہ تھا
شب ترے پرتو سے لبریز لطافت تھا چمن
ہر گل شبو سے جاری نور کا فوارہ تھا
مجھ کو دم لینے کی بھی فرصت نہ دنیا میں ملی
روز مولد شادیانہ کوچ کا نقارا تھا
خرمی ہوتی ہے بے دردوں کو سیر باغ میں
ہم نے جس گل پر نظر کی اک گل صد پارہ تھا
خواب میں بھی یار تک ممکن نہ تھا دخل رقیب
جن دنوں اپنا خیال اخبار کا ہرکارہ تھا
شب نظر کی میں نے فرقت میں جو سوئے آسماں
اژدہا تھی کہکشاں عقرب ہر اک سیارہ تھا
اے اجل دی تو نے بار جسم سے آ کر نجات
کب سے میری پیٹھ پر یہ خاک کا پشتارہ تھا
خوف سب جاتا رہا دل سے عذاب ہجر کا
نقد جاں دینا گناہ عشق کا کفارہ تھا
کہتے ہیں مارا گیا وہ جرم تیغ ناز سے
کوچۂ قاتل میں ناسخؔ نام جو بیچارہ گیا
Users Today : 51
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 517
Users Last 30 days : 1974
Users This Month : 1217
Users This Year : 13026
Total Users : 32745
Views Today : 72
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1093
Views Last 30 days : 4302
Views This Month : 2662
Views This Year : 26841
Total views : 75456
Who's Online : 1