مصحفی غلام ہمدانی – کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
رنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہے
شعلہ شمع میں گرمی یہ کہاں سے آئی
اس کی گرمی سے تو فانوس جلا جاتا ہے
دل کے دھڑکوں کا یہ عالم ہے کہ بے منت دست
پرزے ہو ہو کے گریبان اڑا جاتا ہے
ربط پہلے جو ترے یاد کبھی کرتا ہوں
بیٹھے بیٹھے مجھے افسوس سا آ جاتا ہے
پوچھتا کوئی نہیں کب سے ترے کوچے میں
دل کسی کا ہے کہ پامال ہوا جاتا ہے
گئے وے دن کہ تمنا ہمیں اک اشک کی تھی
اب تو ان آنکھوں سے دریا سا بہا جاتا ہے
شام کے وقت تو کوٹھے پہ جو آتا ہے کبھی
دیکھ کر تجھ کو یہ خورشید چھپا جاتا ہے
بے ادب کے تئیں مطلق نہیں صحبت کا شعور
شانہ کتنا تری زلفوں سے لگا جاتا ہے
یوں قدم رکھ نہ زمیں پر تری رفتار سے آہ
دل کسی کا ہے کہ ماٹی میں ملا جاتا ہے
مصحفیؔ عشق کی وادی میں گزر ہے کس کا
بھولا بھٹکا کوئی ایدھر کو بھی آ جاتا ہے
Users Today : 50
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 516
Users Last 30 days : 1973
Users This Month : 1216
Users This Year : 13025
Total Users : 32744
Views Today : 71
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1092
Views Last 30 days : 4301
Views This Month : 2661
Views This Year : 26840
Total views : 75455
Who's Online : 0