مصحفی غلام ہمدانی – کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
کون اس باغ سے اے باد صبا جاتا ہے
رنگ رخسار سے پھولوں کے اڑا جاتا ہے
شعلہ شمع میں گرمی یہ کہاں سے آئی
اس کی گرمی سے تو فانوس جلا جاتا ہے
دل کے دھڑکوں کا یہ عالم ہے کہ بے منت دست
پرزے ہو ہو کے گریبان اڑا جاتا ہے
ربط پہلے جو ترے یاد کبھی کرتا ہوں
بیٹھے بیٹھے مجھے افسوس سا آ جاتا ہے
پوچھتا کوئی نہیں کب سے ترے کوچے میں
دل کسی کا ہے کہ پامال ہوا جاتا ہے
گئے وے دن کہ تمنا ہمیں اک اشک کی تھی
اب تو ان آنکھوں سے دریا سا بہا جاتا ہے
شام کے وقت تو کوٹھے پہ جو آتا ہے کبھی
دیکھ کر تجھ کو یہ خورشید چھپا جاتا ہے
بے ادب کے تئیں مطلق نہیں صحبت کا شعور
شانہ کتنا تری زلفوں سے لگا جاتا ہے
یوں قدم رکھ نہ زمیں پر تری رفتار سے آہ
دل کسی کا ہے کہ ماٹی میں ملا جاتا ہے
مصحفیؔ عشق کی وادی میں گزر ہے کس کا
بھولا بھٹکا کوئی ایدھر کو بھی آ جاتا ہے
Users Today : 15
Users Yesterday : 30
Users Last 7 days : 208
Users Last 30 days : 823
Users This Month : 512
Users This Year : 2691
Total Users : 22410
Views Today : 28
Views Yesterday : 185
Views Last 7 days : 507
Views Last 30 days : 1627
Views This Month : 1044
Views This Year : 4751
Total views : 53366
Who's Online : 2