میر تقی میر – رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو
زخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں
یاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے
کس توقع پہ دل لگائے تھے
فرصت زندگی سے مت پوچھو
سانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
میرؔ صاحب رلا گئے سب کو
کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
Users Today : 48
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 514
Users Last 30 days : 1971
Users This Month : 1214
Users This Year : 13023
Total Users : 32742
Views Today : 69
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1090
Views Last 30 days : 4299
Views This Month : 2659
Views This Year : 26838
Total views : 75453
Who's Online : 0