پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات- شہر یار
پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات
کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تک
چبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات
وہ کھردری چٹانیں وہ دریا وہ آبشار
سب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات
آنکھوں کو سب کی نیند بھی دی خواب بھی دیے
ہم کو شمار کرتی رہی دشمنوں میں رات
بے سمت منزلوں نے بلایا ہے پھر ہمیں
سناٹے پھر بچھانے لگی راستوں میں رات
Users Today : 36
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 408
Users Last 30 days : 1441
Users This Month : 1035
Users This Year : 6241
Total Users : 25960
Views Today : 59
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 796
Views Last 30 days : 2577
Views This Month : 1937
Views This Year : 11926
Total views : 60541
Who's Online : 0