عقل و دل – علامہ اقبال
عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں
ہوں زميں پر ، گزر فلک پہ مرا
ديکھ تو کس قدر رسا ہوں ميں
کام دنيا ميں رہبري ہے مرا
مثل خضر خجستہ پا ہوں ميں
ہوں مفسر کتاب ہستي کي
مظہر شان کبريا ہوں ميں
بوند اک خون کي ہے تو ليکن
غيرت لعل بے بہا ہوں ميں
دل نے سن کر کہا يہ سب سچ ہے
پر مجھے بھي تو ديکھ ، کيا ہوں ميں
راز ہستي کو تو سمجھتي ہے
اور آنکھوں سے ديکھتا ہوں ميں
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں ميں
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو ، خدا نما ہوں ميں
علم کي انتہا ہے بے تابي
اس مرض کي مگر دوا ہوں ميں
شمع تو محفل صداقت کي
حسن کي بزم کا ديا ہوں ميں
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائر سدرہ آشنا ہوں ميں
کس بلندي پہ ہے مقام مرا
عرش رب جليل کا ہوں ميں!
Users Today : 48
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 514
Users Last 30 days : 1971
Users This Month : 1214
Users This Year : 13023
Total Users : 32742
Views Today : 69
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1090
Views Last 30 days : 4299
Views This Month : 2659
Views This Year : 26838
Total views : 75453
Who's Online : 0