ماں کا خواب (اپنی زبان 8)

میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
د یا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
کہا میں نے پہچان کر میری جاں
مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نه پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ، اچھی وفا تم نے کی
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
سوچیے اور بتائیے
سوال: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو کس حال میں دیکھا؟
جواب: خواب میں ماں نے اپنے آپ کو ایک اندھیری جگہ پر دیکھا جس سے وہ بہت ڈر گئی۔
سوال: ماں نے آگے بڑھ کر کیا دیکھا؟
جواب: ماں نے آگے بڑھ کر بچوں کی ایک قطار دیکھی۔ یہ بچّے زمرد پوشاک پہنے اور ہاتھوں میں دیے لیے تھے۔
سوال: ماں نے اپنے بیٹے کو کس حال میں پایا؟
جواب: اس کا بیٹا قطار میں سب سے پیچھے تھا۔ وہ بہت دھیرے دھیرے چل رہا تھا۔ اس کا دیا بجھ گیا تھا۔
سوال: ماں کی بے قراری کا سبب کیاہے؟
جواب: ماں کی بےقراری کا سبب یہ ہے کہ اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر بہت دور چلا گیا ہے۔ اس نے جب اپنے بیٹے کو یہاں دیکھا تو اس کی حالت دیکھ کر اور بھی بے قرار ہوگئی۔
سوال: لڑکے کے ہاتھ میں دیا کیوں نہیں جل رہا تھا؟
جواب: اس کی ماں کے آنسوؤں نے اس کے دیے کو بجھا دیا تھا۔ اس لیے اس کا دیا نہیں جل رہا تھا۔
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
اضطراب(بے چینی): اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر ماں کا اضطراب بڑھ گیا۔
محال(مشکل): مہنگائی نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔
اجل(موت): آخر کار اس کی اجل آگئی۔
پیچ و تاب(اندر ہی اندر آگ بگولا ہونا) : حامد غصّے سے پیچ و تاب کھانے لگا۔
مصرعے مکمل کیجیے
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے
ترے آنسووں نے بجھایا اسے
ان لفظوں کے متضاد لکھیے
| وفا | : | بے وفائی |
| جواب | : | سوال |
| دور | : | پاس |
| بےقرار | : | قرار |
| جدائی | : | ملن |
| بھلائی | : | برائی |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے۔
مارنے والا
بنانے والا
دیکھنے والا
یہ الفاظ کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں۔ انھیں اسم فاعل کہتے ہیں۔ پانچ اسم فاعل ” والا“ کے ساتھ بتایئے۔
کتاب والا
سبزی والا
قلفی والا
چائے والا
کباڑوالا
غور کرنے کی بات
اس نظم میں ایک ماں کا خواب بیان کیا گیا ہے جو اپنے بیٹے کو لڑکوں کی ایسی جماعت کے ساتھ دیکھتی ہے جن کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے دیے ہیں مگر اس کے بیٹے کا دیا بجھا ہوا ہے اور وہ دوسرے لڑکوں کے پیچھے آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر بیٹے کی جدائی میں روتی ہوئی ماں کو صدمہ پہنچتا ہے وہ بچّے سے شکایت کرتی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر کیوں چلا آیا اور اس کا دیا بجھا ہوا کیوں ہے، بچہ جو ماں کے رونے دھونے سے خود بھی غمگین ہے۔ ماں سے کہتا ہے کہ میرے دیے کو اس کے آنسوؤں نے بجھایا ہے۔
اس سبق میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ ماں باپ کے رونے دھونے سے بچوں کا حوصلہ پست ہوتا ہے اور انھیں آگے بڑھنے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0