افسانہ: تعارف، اجزائے ترکیبی

مختصر افسانہ ادبی تاریخ میں نسبتاً نئی صنف شمار ہوتا ہے اور اس کی باقاعدہ تشکیل انیسویں صدی کے آخری دور میں عمل میں آئی۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی مختلف زبانوں میں مختصر نوعیت کی کہانیاں اور افسانوی تحریریں لکھی جاتی تھیں، لیکن فنی اعتبار سے انہیں جدید مختصر افسانے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ ان تحریروں میں اختصار تو موجود تھا، تاہم ان کی ساخت اور پیش کش داستان اور ناول سے زیادہ مشابہت رکھتی تھی۔ان ابتدائی افسانوی تحریروں میں واقعات کی کثرت، کرداروں کی بڑی تعداد اور قصے کے پھیلاؤ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ کہانی مختلف موڑوں اور متعدد کرداروں کے سہارے آگے بڑھتی تھی، جس کے باعث اس کا دائرۂ کار وسیع ہو جاتا تھا۔ فنی وحدت، داخلی ربط اور ایک مرکزی تاثر کی تشکیل پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے یہ افسانے اپنی ساخت میں مختصر ہونے کے باوجود جدید مختصر افسانے سے مختلف نظر آتے ہیں۔بیسویں صدی کے آغاز سے پہلے تقریباً ہر بڑی زبان کے ادب میں اس نوع کی تحریریں کثرت سے ملتی ہیں۔ انگریزی ادب میں چارلس ڈکنس، فرانسیسی ادب میں اونورے دی بالزاک اور روسی ادب میں لیو ٹالسٹائی کی بعض تخلیقات میں اس رجحان کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ اردو ادب میں بھی رتن ناتھ سرشار، عبدالحلیم شرر، ڈپٹی نذیر احمد اور راشد الخیری کے ہاں ایسی افسانوی تحریروں کی نمایاں مثالیں موجود ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ جدید مختصر افسانے کی باقاعدہ تشکیل سے پہلے دنیا کا کوئی بھی ادب ایسی کہانیوں سے خالی نہیں تھا۔ تاہم یہ تحریریں فنی اعتبار سے اپنی الگ اور منفرد شناخت قائم نہ کر سکیں۔ ان کی دلچسپی کا بنیادی سرچشمہ واقعات کا تسلسل، قصے کا پھیلاؤ اور کہانی کے نشیب و فراز تھے، جب کہ جدید مختصر افسانہ وحدتِ تاثر، اختصار اور فنی ہم آہنگی کو اپنی بنیادی خصوصیات قرار دیتا ہے۔انیسویں صدی کے آخری برسوں میں دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی، معاشی اور فکری حالات سے گزر رہی تھی۔ زندگی کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا اور انسانی مسائل و تجربات نئی صورتوں میں سامنے آ رہے تھے۔ اس بدلتے ہوئے ماحول نے انسان کے ذوق، فکر اور جمالیاتی حس پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ ادب سے متعلق توقعات اور تقاضے بھی تبدیل ہونے لگے۔ انہی نئے فنی شعور اور جمالیاتی رجحانات کے نتیجے میں مختصر افسانے جیسی منفرد ادبی صنف وجود میں آئی۔
بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مختصر افسانے کی تشکیل میں صنعتی انقلاب نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صنعتی دور کی مصروف زندگی نے انسان کے لیے طویل داستانوں اور ضخیم ناولوں کے مطالعے کے مواقع محدود کر دیے تھے۔ چنانچہ ایسے ادبی اظہار کی ضرورت محسوس ہوئی جو کم وقت میں زیادہ گہرا اثر پیدا کر سکے۔ اس ضرورت نے مختصر افسانے کو فروغ دیا۔ اگرچہ وقت کی اس تنگی نے ناول کو بھی نسبتاً مختصر اور مربوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، لیکن مختصر افسانہ اپنی مخصوص فنی ساخت کے باعث ایک الگ صنف کی حیثیت اختیار کر گیا۔مختصر افسانے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ایجاز اور اختصار ہے۔ افسانہ نگار محدود الفاظ میں وسیع معنوی دنیا تخلیق کرتا ہے۔ اس میں غیر ضروری تفصیلات اور پھیلاؤ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہر جزو ایک مرکزی خیال اور تاثر کے تابع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر افسانے میں وحدتِ خیال اور وحدتِ تاثر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر یہ وحدت موجود نہ ہو تو افسانہ اپنی فنی شناخت کھو دیتا ہے۔
اگرچہ مختصر افسانہ اپنے حجم کے اعتبار سے ناول سے مختلف ہے، لیکن اس میں بھی بعض بنیادی عناصر ضروری ہوتے ہیں۔ ایک مربوط پلاٹ، کردار یا کردار کا کوئی نمایاں پہلو، زندگی کے بارے میں کوئی نقطۂ نظر یا فکری جہت، اور مناسب اسلوبِ بیان افسانے کی تشکیل کے اہم اجزا ہیں۔ البتہ جدید افسانے میں ہونے والے مختلف فنی تجربات نے ان روایتی اصولوں کو کسی حد تک وسعت بھی دی ہے، جس کے نتیجے میں افسانہ نگار اظہار کے نئے امکانات سے فائدہ اٹھانے لگا ہے۔مختصر افسانے اور عام مختصر کہانی کے فرق کو معروف ناقد برانڈر میتھیوز نے نہایت خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق مختصر افسانہ محض ایک چھوٹی کہانی نہیں، بلکہ ایک مکمل اور خودمختار فنی صنف ہے۔ اس کی شناخت ایجاز، اختصار، جدتِ اظہار، فنی حسن، داخلی ہم آہنگی اور تخیل کی دل آویزی سے قائم ہوتی ہے۔ یہی خصوصیات اسے دوسری بیانیہ اصناف سے ممتاز اور منفرد بناتی ہیں۔
مختصر افسانہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے وقار عظیم اپنی کتاب ”فن افسانہ نگاری میں لکھتے ہیں:افسانے اور دوسری طرح کی مختصر کہانیوں کا باہمی فرق بتاتے ہوئے A.J.J. Ratcliff نے لکھا ہے کہ مختصر افسانہ سیدھی سادی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی فنی تخلیق ہے جس میں فن کار کے ارادے اور حکمت عملی کو دخل ہوتا ہے۔ یہ فی تخلیق خود Ratcliff کے الفاظ میں اور امریکہ کی معروف افسانہ نگار خاتون مس الزبتھ بودین کے نزدیک عہد حاضر کی پیداوار ہے۔ H.G.Wells نے مختصر افسانے کی تعریف کرتے ہوئے اسے قصے کی ایسی قسم بتایا ہے جسے آدھ گھنٹے میں پڑھا جا سکے۔ چیخوف کے خیال میں مختصر افسانے کا امتیاز یہ ہے کہ نہ اس کا واضحآغاز ہوتا ہے اور نہ واضح انجام ۔مختصر افسانے کی ماہیت اور فنی خصوصیات کے بارے میں مغربی ادب کے متعدد ناقدین اور افسانہ نگاروں نے اپنے اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ ہر ناقد نے اس صنف کے کسی نہ کسی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے اس کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان آرا سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مختصر افسانہ محض ایک مختصر بیانیہ نہیں بلکہ ایک مکمل فنی وحدت کا نام ہے جس کے اپنے اصول، تقاضے اور جمالیاتی اقدار ہیں۔
اردو ادب میں بھی مختصر افسانے کے فن اور اس کی نظریاتی بنیادوں پر سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے۔ ابتدائی دور کے جن ناقدین نے اردو افسانے کے فکری اور فنی مباحث کو منظم انداز میں پیش کیا، ان میں وقار عظیم کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مغربی ناقدین کی مختلف آرا کا بغور مطالعہ کیا اور مختصر افسانے کی تعریف اور اس کے فنی خدوخال کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہی آرا کے تجزیے کے بعد وقار عظیم لکھتے ہیں:
ان سب تعریفوں کا تجزیہ کیا جائے تو جو باتیں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں وہ یہ ہیں:
مختصر افسانہ نثر کی ایک بیانیہ تحریر (تخلیق) ہے۔ جو ایک واحد ڈرامائی واقعے کو ابھارتی ہے۔
مختصر افسانے میں کسی ایک کردار ( یا کرداروں کے ایک مخصوص گروہ) کے نقوش نمایاں کئے جاتے ہیں
مختصر افسانے میں واقعات کی تفصیل اتنے اختصار اور ایجاز کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ پڑھنے والے کا ذہن اس کا ایک (واحد) اثر قبول کرے۔
اس کے علاوہ ان مختلف تعریفوں میں جن دوسری باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:
مختصر افسانہ ایسا ہونا چاہئے کہ اسے آدھ گھنٹہ میں پڑھا جا سکے۔مختصر افسانے میں کوئی واضح آغاز اور انجام نہیں ہوتا ۔
افسانے کی اجزائے ترکیبی
مختصر افسانے کی فنی ساخت میں عموماً چند بنیادی عناصر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جن میں پلاٹ، کردار، مکالمہ، مرکزی خیال، آغاز، نقطۂ عروج (کلائمکس)، انجام، فضا اور ماحول شامل ہیں۔ یہ اجزا مل کر افسانے کو ایک مکمل اور مربوط ادبی تخلیق بناتے ہیں اور اس کے فنی حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ افسانہ نگاری کوئی جامد یا مکمل طور پر پابند صنف نہیں ہے۔ ادب کی ترقی کے ساتھ ساتھ افسانے کے فنی اصولوں میں بھی وسعت پیدا ہوئی ہے اور تخلیق کاروں نے مختلف نوعیت کے تجربات کیے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ تمام عناصر جنہیں روایتی طور پر افسانے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے، ہر افسانے میں یکساں طور پر موجود نہیں ہوتے۔جدید افسانے میں بعض ادیبوں نے پلاٹ کی روایتی ترتیب سے انحراف کیا ہے، جبکہ بعض نے کردار نگاری کو ثانوی حیثیت دے کر احساس، فضا، علامت یا داخلی تجربے کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ نتیجتاً ایسے افسانے بھی سامنے آئے ہیں جن میں نہ واضح پلاٹ موجود ہے اور نہ ہی روایتی معنوں میں کوئی مکمل کردار، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے فنی تاثر، معنوی گہرائی اور تخلیقی انفرادیت کے باعث کامیاب اور مؤثر افسانے تسلیم کیے جاتے ہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ افسانے کے فنی اجزا اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن کسی تخلیق کی کامیابی کا انحصار صرف ان اجزا کی موجودگی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ مصنف اپنے فنی مقصد، تاثر اور خیال کو کس حد تک مؤثر انداز میں قاری تک پہنچا پاتا ہے۔
پلاٹ سے مراد کہانی کے واقعات کی ایسی منظم اور مربوط ترتیب ہے جو افسانے کو فنی وحدت اور معنوی ربط عطا کرتی ہے۔ افسانے میں افسانویت کا بنیادی انحصار اسی عنصر پر ہوتا ہے، کیونکہ پلاٹ ہی واقعات کو ایک خاص سمت اور مقصد فراہم کرتا ہے۔ اگر کہانی میں واقعات کے درمیان کوئی منطقی یا فنی تعلق موجود نہ ہو تو افسانہ اپنی تاثیر اور فنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔افسانے میں کہانی کا وجود ناگزیر سمجھا جاتا ہے، اور یہی کہانی پلاٹ کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ قاری جب واقعات کے ایک مربوط سلسلے کو محسوس کرتا ہے تو دراصل وہ پلاٹ ہی کے وجود کا ادراک کر رہا ہوتا ہے۔ مختصر افسانے میں چونکہ کرداروں کی مکمل نشوونما اور ارتقائی سفر کے لیے زیادہ گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے پلاٹ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی عنصر محدود حجم کے باوجود افسانے کو فنی استحکام بخشتا ہے۔بعض اوقات مختصر افسانے کا پلاٹ کسی بڑے حادثے یا پیچیدہ واقعے پر مشتمل نہیں ہوتا، بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی سا واقعہ بھی افسانے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ ایک مختصر لمحہ، ایک کیفیت، ایک ملاقات یا ایک معمولی تجربہ اگر فنی مہارت سے پیش کیا جائے تو وہ مکمل پلاٹ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔پلاٹ کی کامیابی کا دارومدار اس کی وحدت اور تسلسل پر ہے۔ واقعات کے درمیان باہمی ربط اور داخلی ہم آہنگی ہی افسانے کو منتشر ہونے سے بچاتی ہے۔ اسی وحدت کے باعث افسانہ ایک مربوط تاثر پیدا کرتا ہے اور قاری کے ذہن میں دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔مشہور افسانہ نگار اور ناقد مجنوں گورکھپوری لکھتے ہیں:کسی افسانے میں سب سے پہلے جو چیز ہمارے ذہن کو اپنی طرف منتقل کرتی ہے وہ چند واقعات ہوتے ہیں جن پر افسانے کی بنیاد ہوتی ہے، انھیں واقعات کی ترتیب کو ماجرا یا پلاٹ کہتے ہیں ۔
پلاٹ کی ایک اور تعریف وقار عظیم کے لفظوں میں اس طرح ہے:افسانہ حیات انسانی کے مختلف پہلوؤں ، ان کے تاثرات، ان کی بلندی و پستی، ان کی تبدیلی ، ان کے جمود و تحریک اور اس قسم کی دوسری چیزوں کا ایک ادبی اور فنی عکس ہے اور پلاٹ ان واقعات یا تاثرات کو ایک فنی ترتیب دیتا ہے۔
افسانے کی فنی ساخت میں پلاٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پلاٹ دراصل واقعات اور حالات کی اس منظم ترتیب کا نام ہے جو کہانی کو ربط، تسلسل اور معنویت عطا کرتی ہے۔ یہی عنصر افسانے کو محض واقعات کے مجموعے سے بلند کرکے ایک مکمل ادبی تخلیق کی صورت دیتا ہے۔ افسانے میں کہانی کا وجود ناگزیر ہے اور کہانی کا یہی احساس پلاٹ کی تشکیل کا سبب بنتا ہے۔مختصر افسانے میں کرداروں کی تفصیلی نشوونما اور ارتقائی سفر کے لیے زیادہ گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے پلاٹ اس صنف میں خصوصی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ افسانہ نگار محدود الفاظ میں ایک ایسی صورتِ حال یا واقعے کو پیش کرتا ہے جو قاری کی توجہ کو ابتدا سے انتہا تک قائم رکھے اور ایک واضح تاثر پیدا کرے۔مختصر افسانے کا پلاٹ ہمیشہ کسی بڑے حادثے یا غیر معمولی واقعے پر مبنی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات روزمرہ زندگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ، ایک لمحاتی تجربہ، ایک احساس یا ایک معمولی مشاہدہ بھی پلاٹ کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اہمیت واقعے کی وسعت میں نہیں بلکہ اس کے فنی استعمال اور اثر آفرینی میں ہوتی ہے۔ایک کامیاب پلاٹ کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی وحدت اور تسلسل ہے۔ افسانے کے تمام واقعات، کیفیات اور جزئیات ایک مرکزی نقطے سے وابستہ رہتے ہیں اور ایک ہی تاثر کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہی داخلی ربط اور ہم آہنگی افسانے کو منتشر ہونے سے بچاتی ہے اور اسے فنی اعتبار سے مضبوط اور مؤثر بناتی ہے۔
مختصر افسانے میں پلاٹ اور کردار اپنی اہمیت ضرور رکھتے ہیں، لیکن اس صنف کی اصل قوت اس کے مرکزی خیال یا نقطۂ نظر میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ پلاٹ اور کردار درحقیقت اسی بنیادی تصور کے اظہار کے ذرائع ہوتے ہیں۔ افسانہ نگار سب سے پہلے ایک خیال، احساس، تجربے یا نظریے کو اپنے فن کا مرکز بناتا ہے، پھر اسی کے گرد واقعات اور کرداروں کی تشکیل کرتا ہے۔ اس اعتبار سے موضوع مختصر افسانے کی بنیاد اور اس کی روح کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ پلاٹ اور کردار اس بنیاد پر قائم ہونے والے اجزا ہیں۔مختصر افسانے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں موضوع کو براہِ راست بیان نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔ افسانہ نگار اپنے خیال کو واضح کرنے کے لیے اشاروں، علامتوں، کیفیتوں اور جزوی واقعات کا سہارا لیتا ہے۔ یہ اشارے افسانے کے آغاز سے اختتام تک ایک مربوط سلسلے کی صورت میں جاری رہتے ہیں اور قاری کو خود معنی تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مختصر افسانہ بظاہر کم کہتا ہے، لیکن اپنے اندر معانی اور مفاہیم کی ایک وسیع دنیا سموئے ہوتا ہے۔ حساس اور بیدار ذہن رکھنے والا قاری ان پوشیدہ معنوں کو محسوس کر لیتا ہے اور متن سے کہیں زیادہ حاصل کرتا ہے جتنا الفاظ میں بیان کیا گیا ہوتا ہے۔
فضا اور ماحول بھی مختصر افسانے کے اہم عناصر میں شمار ہوتے ہیں، اگرچہ ان کی پیش کش ناول یا طویل افسانے کی طرح تفصیلی نہیں ہوتی۔ چونکہ مختصر افسانہ اختصار اور ایجاز کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے اس میں طویل منظر نگاری یا تفصیلی بیانیے کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود افسانہ نگار اپنے مرکزی خیال اور تاثر کو مؤثر بنانے کے لیے کسی نہ کسی پس منظر کا انتخاب ضرور کرتا ہے۔یہ پس منظر چند مختصر اشاروں، علامتی تصویروں یا ماحول کی ہلکی سی جھلک کے ذریعے قاری کے سامنے آتا ہے۔ انہی مختصر اشاروں سے ایک ایسی فضا تشکیل پاتی ہے جو افسانے کے جذباتی اور فکری اثر کو گہرا کر دیتی ہے۔ اس طرح فضا اور ماحول افسانے کے بنیادی مقصد نہیں ہوتے بلکہ مرکزی تاثر اور احساس کو ابھارنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان کا اصل کام قاری کے ذہن اور شعور پر اثر ڈالنا اور افسانے کے معنوی حسن میں اضافہ کرنا ہے۔
مختصر افسانے کے مختلف فنی عناصر جب ایک مربوط اور متوازن صورت میں یکجا ہو جاتے ہیں تو ایک مکمل افسانوی ہیئت وجود میں آتی ہے۔ اس ہیئت کی بنیادی خصوصیت اختصار ہے، جو مختصر افسانے کی شناخت بھی ہے اور اس کا سب سے نمایاں وصف بھی۔ اسی اختصار کے باعث پلاٹ، کردار، زبان اور اسلوب روایتی بیانیہ اصناف کے مقابلے میں ایک نئی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی نیا انداز مختصر افسانے کو منفرد بناتا ہے اور اس کے لیے ایک الگ فنی دنیا تشکیل دیتا ہے۔اس افسانوی دنیا کی سب سے اہم خصوصیت وحدتِ تاثر ہے۔ مختصر افسانہ اپنے محدود دائرۂ اظہار کی وجہ سے غیر ضروری تفصیلات، ضمنی موضوعات اور اضافی مباحث کی گنجائش نہیں دیتا۔ افسانہ نگار کی پوری توجہ ایک ہی مرکزی خیال یا احساس پر مرکوز رہتی ہے اور وہ مختلف زاویوں سے اسی کی وضاحت اور توسیع کرتا ہے۔ چونکہ مختصر افسانہ عموماً ایک ہی بنیادی خیال کے گرد تعمیر ہوتا ہے، اس لیے اس کی ساخت میں فطری طور پر وحدت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ وحدت صرف موضوع تک محدود نہیں رہتی بلکہ پلاٹ، کردار، فضا، زبان اور اسلوب میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ افسانے کا ہر جزو ایک ہی تاثر کو مضبوط بنانے میں حصہ لیتا ہے۔ اسی ہم آہنگی کے نتیجے میں قاری کے ذہن پر ایک گہرا اور مربوط اثر قائم ہوتا ہے۔ یہی وحدتِ تاثر مختصر افسانے کے فن کا بنیادی جوہر سمجھی جاتی ہے۔ ناقدین کا اتفاق ہے کہ اگر افسانے میں ابتدا سے انتہا تک تاثر کی یہ یکسانی اور ہم آہنگی برقرار نہ رہے تو وہ اپنے فنی معیار کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دراصل تاثر موضوع اور ہیئت، مواد اور اظہار کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا فطری نتیجہ ہوتا ہے۔
مختصر افسانے کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی رمزیت اور ایمائیت ہے۔ افسانہ نگار اپنے خیال کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے اشاروں، علامتوں اور کنایوں کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ افسانے کا آغاز عموماً کسی ایسے واقعے، منظر یا تجربے سے ہوتا ہے جو زندگی کی حقیقتوں سے ماخوذ ہوتا ہے، لیکن اسے اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے تمام پہلو فوری طور پر واضح نہ ہوں۔ قاری کو مفہوم تک پہنچنے کے لیے متن کے مختلف اشارات اور علامتوں پر غور کرنا پڑتا ہے۔افسانہ آگے بڑھتے ہوئے ان اشاروں اور معنوی پرتوں کو مزید گہرا کرتا جاتا ہے۔ اکثر اس کا اختتام بھی ایسا ہوتا ہے جو قاری کے ذہن میں نئے سوالات، امکانات اور تعبیرات پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر افسانہ اپنے اختتام کے بعد بھی قاری کے ذہن میں زندہ رہتا ہے اور اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر افسانے میں رمزیت، ایمائیت اور معنوی گہرائی کا یہ عنصر موجود نہ ہو تو اس کی فنی تاثیر کم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ادبی مقصد کو پوری طرح حاصل نہیں کر پاتا۔
Users Today : 5
Users Yesterday : 51
Users Last 7 days : 668
Users Last 30 days : 1811
Users This Month : 5
Users This Year : 7017
Total Users : 26736
Views Today : 6
Views Yesterday : 144
Views Last 7 days : 1493
Views Last 30 days : 3636
Views This Month : 6
Views This Year : 13625
Total views : 62240
Who's Online : 0