چارہ گر (اک چمیلی کے منڈوے تلے ) مخدوم محی الدین
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن
پیار کی آگ میں جل گئے
پیار حرف وفا پیار ان کا خدا
پیار ان کی چتا
دو بدن
اوس میں بھیگتے چاندنی میں نہاتے ہوئے
جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر
ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا
صرف ماتم ہوئی
کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر
ایک پل کے لیے رک گئی
ہم نے دیکھا انہیں
دن میں اور رات میں
نور و ظلمات میں
مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انہیں
مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیں
مے کدوں کی دراڑوں نے دیکھا انہیں
از ازل تا ابد
یہ بتا چارہ گر
تیری زنبیل میں
نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے
کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن
Users Today : 52
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 518
Users Last 30 days : 1975
Users This Month : 1218
Users This Year : 13027
Total Users : 32746
Views Today : 75
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1096
Views Last 30 days : 4305
Views This Month : 2665
Views This Year : 26844
Total views : 75459
Who's Online : 0