چارہ گر (اک چمیلی کے منڈوے تلے ) مخدوم محی الدین
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن
پیار کی آگ میں جل گئے
پیار حرف وفا پیار ان کا خدا
پیار ان کی چتا
دو بدن
اوس میں بھیگتے چاندنی میں نہاتے ہوئے
جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر
ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا
صرف ماتم ہوئی
کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر
ایک پل کے لیے رک گئی
ہم نے دیکھا انہیں
دن میں اور رات میں
نور و ظلمات میں
مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انہیں
مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیں
مے کدوں کی دراڑوں نے دیکھا انہیں
از ازل تا ابد
یہ بتا چارہ گر
تیری زنبیل میں
نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے
کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر
دو بدن
Users Today : 36
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 408
Users Last 30 days : 1441
Users This Month : 1035
Users This Year : 6241
Total Users : 25960
Views Today : 59
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 796
Views Last 30 days : 2577
Views This Month : 1937
Views This Year : 11926
Total views : 60541
Who's Online : 1