ڈراما: تعارف اور آغاز

ڈراما محض مکالموں پر مشتمل ادبی تحریر کا نام نہیں اور نہ ہی اسے صرف واقعات اور کرداروں کے مجموعے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ڈرامے کی اصل شناخت اس کی پیش کش اور اسٹیج پر اظہار میں پوشیدہ ہے۔ جب تک اسے اداکاروں کے ذریعے ناظرین کے سامنے پیش نہ کیا جائے، اس کی فنی تکمیل نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے ڈراما دیگر ادبی اصناف سے مختلف ایک نمائشی اور عملی فن سمجھا جاتا ہے۔ڈرامے کی تاریخ انسانی تہذیب کی تاریخ جتنی قدیم تصور کی جاتی ہے۔ انسان نے جب سے شعور حاصل کیا، اپنے خیالات، جذبات، خواہشات اور تجربات کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش بھی شروع کر دی۔ ابتدائی زمانوں میں اظہار کے ذرائع محدود تھے، اس لیے انسان اپنے احساسات اور کیفیات کو بنیادی طور پر دو طریقوں سے ظاہر کرتا تھا: آواز کے ذریعے اور جسمانی حرکات و سکنات کے ذریعے۔یہی دو عناصر بعد میں ڈرامائی فن کی بنیاد بنے۔ آواز نے مکالمے، نغمے اور مختلف صوتی اظہار کی شکل اختیار کی، جبکہ حرکات و سکنات نے اداکاری، اشاروں اور جسمانی اظہار کو جنم دیا۔ اس طرح ڈراما انسانی جذبات، خیالات اور تجربات کے عملی اظہار کا وہ فن بن گیا جس میں الفاظ اور عمل باہم مل کر زندگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق لفظ ڈراما یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” کر کے دکھائی ہوئی چیز "۔ شیلڈن چینی کی نظر میں :ڈراما اس یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں انہیں کرتا ہوں اور جس کا اطلاق کی ہوئی چیز” پر ہوتا ہے۔عام زبان میں ڈراما کی تعریف یوں پیش کی جاسکتی ہے:” کسی قصے یا واقعہ کو کرداروں کے ذریعے تماشائیوں کے روبر وعملاً پیش کرنے کو ڈراما کہتے ہیں”۔
ڈراما اور اس کی پیش کش کی اہمیت
ڈرامے کی مختلف تعریفوں میں عمل اور پیش کش کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈراما ناول یا افسانے کی طرح محض پڑھنے یا لکھنے کی صنف نہیں، بلکہ ایک عملی اور نمائشی فن ہے۔ اس کا حقیقی وجود اس وقت سامنے آتا ہے جب اسے اسٹیج پر اداکاروں کے ذریعے پیش کیا جائے۔ محض تحریری صورت میں موجود ڈراما اپنی مکمل فنی حیثیت حاصل نہیں کر پاتا۔ڈرامے کی تحریری شکل یا اسکرپٹ کو ایک حد تک عمارت کے نقشے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جس طرح کسی عمارت کی تعمیر سے قبل اس کا نقشہ تیار کیا جاتا ہے اور اس میں عمارت کی ساخت، ترتیب اور ضروری تفصیلات موجود ہوتی ہیں، اسی طرح اسکرپٹ میں ڈرامے کے واقعات، کردار، مکالمے اور دیگر فنی عناصر درج ہوتے ہیں۔ لیکن جس طرح نقشہ خود عمارت نہیں ہوتا، اسی طرح اسکرپٹ بھی مکمل ڈراما نہیں کہلا سکتا۔
عمارت کی تکمیل کے لیے نقشے کے ساتھ اینٹ، پتھر، سیمنٹ، لوہا، لکڑی اور ماہر کاریگروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بالکل اسی طرح ڈرامے کو مکمل فن پارہ بنانے کے لیے اسکرپٹ کے علاوہ متعدد عناصر درکار ہوتے ہیں۔ اداکار کرداروں میں جان ڈالتے ہیں، اسٹیج واقعات کو بصری شکل دیتا ہے، روشنی اور آواز ماحول پیدا کرتی ہیں، موسیقی جذباتی اثر میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ لباس، میک اَپ اور منظر آرائی کرداروں اور حالات کو حقیقت سے قریب تر بنا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ناظرین کی موجودگی بھی اہم ہے، کیونکہ ڈراما دراصل اداکار اور تماشائی کے درمیان ایک زندہ اور براہِ راست تعلق کا نام ہے۔اس طرح ڈراما مختلف فنی اور عملی عناصر کے اشتراک سے وجود میں آتا ہے۔ اس کی اصل روح اس کی پیش کش میں مضمر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسٹیج پر کامیاب اجرا کے بغیر ڈراما اپنی مکمل ادبی اور فنی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا۔
ڈرامے کے اجزائے ترکیبی
ڈرامے میں پلاٹ اور تصادم
ڈرامے کی فنی ساخت میں پلاٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پلاٹ دراصل واقعات کی ایسی منظم اور مربوط ترتیب کا نام ہے جس میں ہر واقعہ کسی نہ کسی سبب سے وابستہ ہوتا ہے اور مجموعی طور پر ایک بامعنی وحدت پیدا کرتا ہے۔ محض واقعات کا بیان پلاٹ نہیں کہلاتا، بلکہ ان کے درمیان موجود منطقی اور نفسیاتی ربط ہی پلاٹ کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔
معروف انگریزی ناقد ای۔ ایم۔ فورسٹر نے کہانی اور پلاٹ کے فرق کو نہایت سادہ انداز میں واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کہا جائے کہ ’’بادشاہ مر گیا اور اس کے بعد رانی بھی مر گئی‘‘ تو یہ صرف ایک کہانی یا واقعات کا بیان ہے، لیکن اگر کہا جائے کہ ’’بادشاہ مر گیا اور اس کے غم میں رانی بھی مر گئی‘‘ تو یہ پلاٹ بن جاتا ہے، کیونکہ یہاں دونوں واقعات کے درمیان سبب اور نتیجے کا تعلق قائم ہو گیا ہے۔ڈراما چونکہ محدود وقت میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے اس کے پلاٹ میں اختصار، ربط اور ارتکاز کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ ڈراما نگار کو واقعات کی ترتیب اس مہارت سے قائم کرنی ہوتی ہے کہ ہر منظر اگلے منظر کی بنیاد بنے اور کہانی مسلسل آگے بڑھتی رہے۔ واقعات کا یہ ارتقا بتدریج شدت اختیار کرتا ہوا نقطۂ عروج تک پہنچتا ہے، جہاں ڈرامائی کشمکش اپنی انتہائی صورت میں سامنے آتی ہے۔
فنی اعتبار سے پلاٹ کی دو بنیادی صورتیں بیان کی جاتی ہیں: اکہرا پلاٹ اور تہہ دار پلاٹ۔ اکہرے پلاٹ میں تمام واقعات ایک ہی مرکزی کردار یا مرکزی مسئلے کے گرد گردش کرتے ہیں۔ ان کے درمیان واضح ربط پایا جاتا ہے اور مجموعی طور پر ایک ہی نوعیت کے جذبات اور تجربات کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس تہہ دار پلاٹ میں مرکزی کہانی کے ساتھ مختلف ذیلی واقعات اور ضمنی کردار بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے متعدد جہات سامنے آتی ہیں اور کہانی میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔
اسٹیج کی ضروریات کے پیشِ نظر اکہرا اور سادہ پلاٹ زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ پیچیدہ اور الجھے ہوئے پلاٹ ڈرامے کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ ضمنی واقعات نہ صرف حرکت و عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ تماشائی کی توجہ اور دلچسپی کو بھی کم کر دیتے ہیں۔
ڈرامے کے پلاٹ میں تصادم کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی عنصر ڈرامائی کشش اور حرکت پیدا کرتا ہے۔ تصادم مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ کبھی یہ دو افراد، دو قوتوں یا دو نظریات کے درمیان ہوتا ہے، کبھی کردار اور ماحول کے درمیان، اور کبھی کردار اپنی تقدیر سے برسرِ پیکار نظر آتا ہے۔ بعض اوقات کشمکش نیکی اور بدی، فرض اور محبت، زندگی اور موت، یا مختلف عقائد اور نظریات کے درمیان بھی پیدا ہوتی ہے۔ جدید ڈراموں میں داخلی تصادم کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ایک کردار اپنی خواہشات، جذبات اور متضاد رجحانات کے درمیان الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہی کشمکش ڈرامے کو زندگی کی حقیقی پیچیدگیوں سے جوڑتی ہے اور اسے فنی گہرائی عطا کرتی ہے۔
ڈرامے میں کردار نگاری
ڈرامے کے پلاٹ کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے کردار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ دراصل کردار ہی وہ وسیلہ ہیں جن کے ذریعے واقعات آگے بڑھتے ہیں اور ڈرامائی عمل مکمل ہوتا ہے۔ ہر کردار اپنے ساتھ اپنے عہد، ماحول، تعلیم، تہذیب، ثقافت، سماجی پس منظر اور نفسیاتی خصوصیات کو لے کر آتا ہے۔ اسی لیے کامیاب کردار نگاری کسی بھی ڈرامے کی جان سمجھی جاتی ہے۔معیاری کردار وہ ہوتے ہیں جن کی گفتگو، حرکات و سکنات، جذبات اور طرزِ عمل حقیقی زندگی کی عکاسی کرتے ہوں۔ ایسے کردار اپنی فطری اور جیتی جاگتی خصوصیات کی وجہ سے ناظرین کے ذہن میں دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ ان کی اہمیت صرف انفرادی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے معاشرے، طبقے یا تہذیبی اقدار کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ ان میں انفرادیت اور عمومیت کا ایسا امتزاج پایا جاتا ہے کہ وہ مخصوص ہونے کے باوجود وسیع انسانی تجربات کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔
کرداروں کو عموماً دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: ارتقائی کردار اور جامد کردار۔ ارتقائی کردار وہ ہوتے ہیں جو حالات، تجربات، حادثات یا سماجی تبدیلیوں کے زیرِ اثر اپنے رویوں، خیالات یا شخصیت میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے اندر نشوونما اور ارتقا کی کیفیت موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جامد کردار ابتدا سے انتہا تک تقریباً ایک ہی صورت میں برقرار رہتے ہیں۔ وہ نئے تجربات یا حالات سے متاثر ہو کر اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔ فنی اعتبار سے ارتقائی کردار زیادہ مؤثر اور حقیقت سے قریب سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ انسانی زندگی مسلسل تغیر اور ارتقا کا نام ہے۔
کردار نگاری کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر کردار کی زبان اور گفتگو اس کے سماجی پس منظر، تعلیم، ماحول اور طبقاتی حیثیت کے مطابق ہو۔ مختلف طبقوں، پیشوں اور تہذیبی پس منظر رکھنے والے افراد ایک جیسی زبان استعمال نہیں کرتے۔ اس لیے کامیاب ڈراما نگار کرداروں کے مکالموں میں اس فرق کو برقرار رکھتا ہے۔ اس طرح نہ صرف کردار زیادہ حقیقی محسوس ہوتے ہیں بلکہ معاشرتی اور طبقاتی تفاوت بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ڈرامے میں مکالمے صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ پلاٹ کی ترقی اور کرداروں کی شخصیت کو واضح کرنے کا اہم وسیلہ بھی ہوتے ہیں۔ ہر مکالمہ موقع و محل کے مطابق، کردار کے مزاج سے ہم آہنگ اور ڈرامائی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ جب کردار اپنی حیثیت، ماحول اور نفسیات کے مطابق گفتگو کرتے ہیں تو ڈرامے میں فطری پن، تاثیر اور حقیقت نگاری پیدا ہوتی ہے، جو اسے ایک کامیاب فن پارہ بناتی ہے۔
ڈرامے میں مکالمہ نگاری
ڈراما ایک نمائشی فن ہے اور اس کی اصل قوت اسٹیج پر پیش کیے جانے والے عمل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ چونکہ ناظر کرداروں، مناظر اور اشیا کو براہِ راست دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کرداروں کے چہرے کے تاثرات، جسمانی حرکات، نشست و برخاست، خاموشی اور دیگر عملی اشارے بعض اوقات طویل مکالموں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے ڈرامے میں صرف وہی بات کہی جاتی ہے جو عمل کے ذریعے واضح نہ ہو سکے۔
ڈرامائی فن میں عمل کو گفتگو پر فوقیت حاصل ہے۔ اس وجہ سے مکالموں کی غیر ضروری طوالت ڈرامے کی رفتار اور تاثیر دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ مکالموں کا بنیادی مقصد حرکت و عمل کو تقویت دینا، کرداروں کی شخصیت کو نمایاں کرنا اور پلاٹ کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ چونکہ ڈرامے کا وقت محدود ہوتا ہے، اس لیے مکالموں میں اختصار اور جامعیت نہایت ضروری ہے۔ ہر لفظ اور ہر جملہ اپنی جگہ معنی خیز اور ناگزیر ہونا چاہیے۔ڈراما نگاری میں الفاظ کے انتخاب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مکالمے اس قدر مختصر اور بامعنی ہونے چاہییں کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مفہوم ادا ہو جائے۔ اگر ایک خیال ایک ہی جملے میں مؤثر انداز سے بیان کیا جا سکتا ہو تو غیر ضروری تفصیل سے گریز کرنا چاہیے۔ ڈرامے کے لیے خوبصورت مکالمہ وہ نہیں جس میں محض دل کش الفاظ استعمال کیے گئے ہوں، بلکہ وہ ہے جو موقع و محل کے مطابق ہو اور ڈرامائی ضرورت کو پورا کرتا ہو۔
مکالموں کی کامیابی کا ایک اہم معیار یہ بھی ہے کہ وہ کردار کی شخصیت، ذہنی سطح، معاشرتی حیثیت اور تہذیبی پس منظر سے ہم آہنگ ہوں۔ ہر کردار کی گفتگو اس کے مزاج، تعلیم، پیشے اور ماحول کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ جس طرح حقیقی زندگی میں مختلف افراد کے اندازِ گفتگو، لہجے اور الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح ڈرامے کے کرداروں کے مکالموں میں بھی یہ انفرادیت نمایاں ہونی چاہیے۔فطری اور مؤثر مکالمے تخلیق کرنے کے لیے ڈراما نگار کا مختلف طبقوں، گروہوں اور معاشرتی سطحوں کی زبان پر عبور رکھنا ضروری ہے۔ صرف زبان ہی نہیں، بلکہ ان تہذیبی، سماجی اور ثقافتی عوامل سے واقفیت بھی لازمی ہے جو زبان کے پس منظر میں کارفرما ہوتے ہیں۔ یہی آگہی مکالموں کو حقیقت سے قریب، جاندار اور مؤثر بناتی ہے، اور ڈرامے کے فنی حسن میں اضافہ کرتی ہے۔ بقول پروفیسر محمد حسن: مکالمے تین صورتوں سے خالی نہیں ہوتے اور اگر وہ تینوں میں سے کوئی شرط پوری نہ کرتے ہوں تو ڈرامے میں ان کی گنجائش نہیں۔ یا تو مکالمہ کہانی کو آگے بڑھاتا ہو، یا کردار کے کسی پہلو کو واضح اور اس میں تبدیلی یا ارتقا ظاہر کرتا ہو یا فضا پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو۔ یہ معیار ہر مکالمے کے ہر ٹکڑے کے لئے برتا جاسکتا ہے۔ لفاظی یا شاعرانہ تقریروں کی گنجائش اس طرح ختم ہو جاتی ہے۔”
ڈرامے کی زبان
ڈرامے میں زبان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے کردار اپنے خیالات، جذبات اور باہمی تعلقات کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈرامے کی زبان کا انتخاب سب سے پہلے اس کے موضوع کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اگر ڈرامے کا تعلق کسی تاریخی یا نیم تاریخی دور سے ہو تو اس کی زبان میں سنجیدگی، وقار اور عہد کی مناسبت سے مخصوص الفاظ و تراکیب شامل ہوں گی، جبکہ سماجی، مزاحیہ یا روزمرہ زندگی سے متعلق ڈراموں میں زبان نسبتاً سادہ، رواں اور عام فہم ہوتی ہے۔ اس طرح ہر موضوع اپنی فطرت کے مطابق زبان کا ایک مخصوص انداز متعین کرتا ہے۔
موضوع کے علاوہ کردار بھی زبان کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈرامے کے تمام کردار ایک ہی اندازِ گفتگو اختیار نہیں کرتے، کیونکہ ہر فرد کا تعلیمی معیار، سماجی حیثیت، تہذیبی پس منظر، ماحول اور نفسیاتی کیفیت دوسرے افراد سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب ڈراما نگار ہر کردار کو ایسی زبان عطا کرتا ہے جو اس کی شخصیت اور حالات کی صحیح نمائندگی کرے۔حقیقی زندگی میں بھی انسان مختلف مواقع اور حالات کے مطابق اپنی زبان بدلتا رہتا ہے۔ خوشی، غصہ، افسردگی، محبت یا اضطراب جیسی کیفیات گفتگو کے انداز اور الفاظ کے انتخاب پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی طرح کسی بزرگ، دوست، ماتحت یا اجنبی شخص سے گفتگو کرتے وقت بھی زبان کا لہجہ اور انداز تبدیل ہو جاتا ہے۔ ڈرامے میں اس فطری تنوع کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ کردار حقیقت کے قریب محسوس ہوں۔
اچھی ڈرامائی زبان کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ کرداروں کی انفرادیت کو نمایاں کرے۔ اگرچہ تمام کردار ایک ہی زبان، مثلاً اردو، میں گفتگو کر رہے ہوں، پھر بھی ان کے جملوں کی ساخت، الفاظ کے انتخاب، لہجے، محاوروں اور اظہار کے انداز میں فرق ہونا چاہیے۔ یہی فرق کرداروں کو ایک دوسرے سے ممتاز بناتا ہے اور ناظر یا قاری کو ان کی شخصیت، طبقاتی حیثیت اور ذہنی سطح کا اندازہ دینے میں مدد دیتا ہے۔اس طرح ڈرامے کی زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار نگاری، فضا سازی اور حقیقت نگاری کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ کامیاب ڈراما نگار زبان کو اس مہارت سے استعمال کرتا ہے کہ ہر کردار اپنی الگ شناخت کے ساتھ سامنے آتا ہے اور ڈرامے کی مجموعی فنی تاثیر میں اضافہ ہوتا ہے۔
موسیقی، روشنی اور آرائش و زیبائش
جدید ڈرامے کی پیش کش میں موسیقی ایک نہایت اہم عنصر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قدیم یونانی فلسفی ارسطو نے بھی ڈرامے کے بنیادی اجزا میں موسیقی کو نمایاں مقام دیا تھا۔ موسیقی نہ صرف ڈرامے کی فضا کو مؤثر بناتی ہے بلکہ کرداروں کے جذبات، ذہنی کیفیتوں اور مختلف حالات و واقعات کے تاثر کو بھی گہرائی عطا کرتی ہے۔ بعض مواقع پر ایک مناسب دھن یا صوتی اثر وہ کیفیت پیدا کر دیتا ہے جسے الفاظ کے ذریعے بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔
موسیقی کے ساتھ ساتھ روشنی بھی جدید ڈرامے کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ روشنی کے مختلف انداز، رنگ اور شدت اسٹیج پر مخصوص ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی مدد سے وقت، مقام، موسم، جذباتی کیفیت اور مختلف حالات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ روشنی نہ صرف منظر کی وضاحت کرتی ہے بلکہ ناظرین کی توجہ کو بھی مطلوبہ کردار، منظر یا واقعے کی طرف مرکوز رکھتی ہے۔
ڈرامے کی پیش کش میں آرائش و زیبائش اور لباس کی بھی خاص اہمیت ہے۔ اسٹیج کی سجاوٹ، منظر آرائی، ملبوسات اور دیگر ظاہری لوازمات کرداروں کی شناخت، ان کے سماجی مرتبے، تاریخی پس منظر اور ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ بہت سی ایسی باتیں جو براہِ راست مکالموں کے ذریعے بیان نہیں کی جاتیں، انہیں لباس، آرائش اور اسٹیج کی ترتیب کے ذریعے کامیابی سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ ارسطو نے آرائش و زیبائش کو ڈرامے کے اجزا میں شامل کیا، لیکن اس نے اسے دیگر عناصر کے مقابلے میں کم اہمیت دی۔ اس کے نزدیک اس کا تعلق شاعر یا ڈراما نگار کے بجائے زیادہ تر فنی ماہرین اور کاریگروں سے ہے۔ تاہم جدید تھیٹر کی ترقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ منظر آرائی، لباس، روشنی اور دیگر تکنیکی پہلو ڈرامے کی مجموعی کامیابی میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ آج ڈراما صرف الفاظ اور اداکاری کا فن نہیں رہا، بلکہ مختلف فنی اور تکنیکی عناصر کے اشتراک سے وجود میں آنے والا ایک جامع اور ہمہ گیر فن بن چکا ہے، جس میں کاریگری اور فنی مہارت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
ڈرامے کی اہم اقسام
بنیادی طور پر ڈرامے کو دو اقسام میں بانٹا گیا ہے:
1 ٹریجیڈی (Tragedy) یعنی المیہ
2کامیڈی (Comedy) یعنی طربیہ
وقت کے ساتھ ڈرامے کی فنی ساخت اور موضوعات میں تنوع پیدا ہوا تو الم اور طرب کے عناصر کو مختلف انداز میں یکجا کرکے نئی نئی اقسام وجود میں آئیں۔ چنانچہ المیہ اور طربیہ کے علاوہ الم طربیہ، میلوڈراما، فارس، ڈریم اور اوپیرا جیسی متعدد صورتیں بھی رائج ہوئیں، جنہوں نے ڈرامائی فن کے دائرے کو مزید وسیع کیا۔
ٹریجیڈی (المیہ)
المیہ مغربی ڈرامے کی سب سے اہم اور باوقار صنف سمجھی جاتی ہے۔ ایک طویل عرصے تک اسے ڈرامے کی اعلیٰ ترین صورت تصور کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ بعض اوقات ڈرامے کو ہی ٹریجیڈی کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔ المیے کا بنیادی موضوع انسانی زندگی کے دردناک، غم انگیز اور المناک واقعات ہوتے ہیں۔ اس میں عموماً بلند مرتبہ، باوقار یا اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کردار پیش کیے جاتے ہیں، جن کی زندگی میں پیش آنے والی کشمکش اور الم ناک انجام ناظرین کے دل میں ہمدردی اور خوف کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔
کامیڈی (طربیہ)
طربیہ یا کامیڈی کا بنیادی مقصد ناظرین کو مسرت، تفریح اور ذہنی آسودگی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ روایتی تنقید میں اسے المیے کے مقابلے میں کم درجہ دیا گیا، تاہم عوامی مقبولیت کے اعتبار سے اس کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہی۔ طربیہ میں عام زندگی کے کردار، روزمرہ کے حالات اور خوشگوار واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے کردار عموماً متوسط یا عام طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی کمزوریاں، غلطیاں اور دلچسپ حرکات مزاح اور تفریح کا سبب بنتی ہیں۔
ٹریجیڈی کامیڈی (الم طربیہ)
جب ڈراما نگاروں نے المیہ اور طربیہ دونوں کے عناصر کو یکجا کرنے کی کوشش کی تو ایک نئی صنف وجود میں آئی جسے الم طربیہ یا ٹریجیڈی کامیڈی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے ڈرامے میں سنجیدہ اور دردناک واقعات کے ساتھ خوشی، امید اور تفریح کے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح ناظرین کو نہ صرف جذباتی اثر ملتا ہے بلکہ تفریح کا پہلو بھی برقرار رہتا ہے۔ یہ صنف زندگی کی اس حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے کہ خوشی اور غم اکثر ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
میلوڈراما
میلوڈراما بنیادی طور پر سنجیدہ نوعیت کا ڈراما ہوتا ہے، لیکن اس میں موسیقی اور جذباتی اظہار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس صنف میں جذبات کی شدت، ڈرامائی صورتِ حال اور اثر انگیزی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کرداروں کے جذبات اس قدر شدت اختیار کر لیتے ہیں کہ حقیقت سے زیادہ مبالغہ آمیز محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اگرچہ میلوڈراما روایتی المیے کی گہرائی تک نہیں پہنچتا، لیکن اس میں جذباتی ہیجان اور شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔
فارس
فارس ایک مزاحیہ ڈرامائی صنف ہے جس میں ہنسی اور تفریح کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس میں مضحکہ خیز واقعات، غیر متوقع صورتِ حال، مبالغہ آمیز کردار اور مزاحیہ حرکات و سکنات پیش کی جاتی ہیں۔ فارس میں پلاٹ اور کردار نگاری کے مقابلے میں تفریحی کیفیت اور طنزیہ یا تمسخر آمیز صورتِ حال زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد سنجیدہ مسائل پر غور و فکر کے بجائے ناظرین کو محظوظ کرنا ہوتا ہے۔
ڈریم
ڈریم یا خیالی ڈراما، مخلوط نوعیت کے ڈراموں کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں نہ تو خالص مزاحیہ انداز غالب ہوتا ہے اور نہ ہی شدید المیہ فضا پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے کردار عام طور پر منفرد اور انفرادی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے ڈرامے میں تخیل، خواب ناک فضا اور غیر معمولی واقعات کو اہمیت دی جاتی ہے، تاہم اس کا اختتام عموماً المناک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں المیے جیسی عظمت اور جلال کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔
اوپیرا
اوپیرا ڈرامے کی ایک ایسی شکل ہے جس میں موسیقی، گائیکی اور بعض اوقات رقص کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ اسے عام طور پر گیت اور موسیقی کے ذریعے پیش کیا جانے والا ڈراما کہا جاتا ہے، لیکن اس کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ موسیقی پورے ڈرامے کے ساتھ مسلسل جڑی رہتی ہے۔ کہانی کے مختلف مراحل، کرداروں کے جذبات اور واقعات کی نوعیت کے مطابق موسیقی اپنا رنگ بدلتی رہتی ہے، مگر اس کا تسلسل قائم رہتا ہے۔ اس طرح اوپیرا میں موسیقی محض معاون عنصر نہیں بلکہ ڈرامائی اظہار کا بنیادی ذریعہ بن جاتی ہے۔
ڈرامے کی وحدت ثلاثہ
ڈرامے کی تین وحدتیں بیان کی گئی ہیں۔ وحدت عمل، وحدت زماں، وحدت مکاں
کلاسیکی ڈرامے کی تنقید میں تین وحدتوں کا تصور بڑی اہمیت رکھتا ہے، جنہیں وحدتِ عمل، وحدتِ زمان اور وحدتِ مکان کہا جاتا ہے۔ ان اصولوں کا مقصد ڈرامے میں فنی ربط، ہم آہنگی اور اثر آفرینی کو برقرار رکھنا تھا۔ ان میں سے ارسطو نے براہِ راست سب سے زیادہ زور وحدتِ عمل پر دیا ہے۔
وحدتِ عمل
وحدتِ عمل کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ڈراما ایک ہی مرکزی عمل یا بنیادی پلاٹ کے گرد ترتیب دیا جائے۔ تمام واقعات، کردار اور صورتِ حال اسی مرکزی مقصد کی تکمیل میں معاون ہوں۔ اس اصول کے مطابق ایسے ضمنی واقعات یا ذیلی پلاٹ شامل نہیں کیے جانے چاہییں جو مرکزی خیال یا بنیادی جذبے سے ہٹ کر کسی دوسری سمت میں لے جائیں۔ ڈرامے کے تمام اجزا باہم اس طرح مربوط ہوں کہ وہ مل کر ایک ہی تاثر اور ایک ہی ڈرامائی عمل کو تقویت دیں۔ یہی وحدت ڈرامے کو انتشار سے بچاتی اور اس کی فنی یکسوئی کو برقرار رکھتی ہے۔
وحدتِ زمان
وحدتِ زمان سے مراد یہ نہیں کہ ڈرامے کی پیش کش کتنی دیر جاری رہتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ زمانی مدت ہے جس پر ڈرامے کے واقعات محیط ہوتے ہیں۔ کلاسیکی نظریے کے مطابق ڈرامے کی کہانی کو محدود وقت کے اندر وقوع پذیر ہونا چاہیے تاکہ واقعات زیادہ حقیقی اور قابلِ یقین محسوس ہوں۔ ارسطو کی توضیحات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس وحدت کا تعلق ڈرامے کے قصے کے زمانی پھیلاؤ سے ہے، نہ کہ اس کی اسٹیج پر پیش کش کے دورانیے سے۔
وحدتِ مکان
وحدتِ مکان کا مطلب یہ ہے کہ ڈرامے کے تمام یا زیادہ تر واقعات ایک ہی مقام پر رونما ہوں۔ بعد کے بعض ناقدین کا خیال تھا کہ اگر ڈرامے کا ایک منظر ایک جگہ اور دوسرا منظر بہت دور کسی دوسری جگہ پر دکھایا جائے تو ناظرین کے لیے اس تبدیلی کو قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے یہ اصول پیش کیا کہ ڈرامے کی کارروائی ایک ہی مقام یا محدود جغرافیائی دائرے میں رہنی چاہیے۔تاہم جدید تنقید اور کئی ادیب اس نظریے کو لازمی نہیں سمجھتے۔ معروف ادیب اور ناقد عزیز احمد کے مطابق انسانی ذہن میں اتنی وسعت اور تخیلاتی صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ بآسانی مختلف مقامات اور مناظر کو قبول کر لیتا ہے۔ ناظر ایک لمحے میں ایک مقام سے دوسرے دور دراز مقام تک ذہنی سفر کر سکتا ہے، اس لیے وحدتِ مکان کو ڈرامے کی لازمی شرط قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ کلاسیکی ڈرامے میں ان تین وحدتوں کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے، لیکن جدید ڈراما نگاری میں ان اصولوں کو سخت پابندی کے بجائے فنی رہنمائی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
وحدتِ مکان کے اصول کے پس منظر میں عملی اور فنی وجوہات بھی کارفرما تھیں۔ قدیم یونانی تھیٹر میں جدید طرز کا پروسینیم اسٹیج موجود نہیں تھا، جس کی مدد سے مختلف مناظر اور مقامات کی تبدیلی کو آسانی سے دکھایا جا سکے۔ اسٹیج کی تکنیکی محدودیت کے باعث ایک مقام سے دوسرے مقام کی منتقلی کو مؤثر انداز میں پیش کرنا مشکل تھا۔ اسی دشواری کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ڈرامائی عمل کو ایک ہی مقام تک محدود رکھنے کا تصور فروغ پایا اور وحدتِ مکان کے اصول کو اہمیت حاصل ہوئی۔تاہم یہ اصول ہر تہذیب اور ڈرامائی روایت میں یکساں طور پر نافذ نہیں تھا۔ ہندوستانی ڈرامے کی روایت میں بھی جدید معنوں کا پروسینیم اسٹیج موجود نہیں تھا، لیکن یہاں اس مسئلے کا حل مختلف انداز سے نکالا گیا۔ مقام یا منظر کی تبدیلی کو اسٹیج کی آرائش یا تکنیکی تبدیلیوں کے بجائے کرداروں کے مکالموں اور بیانات کے ذریعے واضح کر دیا جاتا تھا۔ کوئی کردار ناظرین کو یہ بتا دیتا تھا کہ اب واقعہ کسی دوسرے مقام پر پیش آ رہا ہے یا کردار ایک نئی جگہ پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح ناظرین اپنے تخیل کی مدد سے مقام کی تبدیلی کو قبول کر لیتے تھے اور ڈرامائی تسلسل برقرار رہتا تھا۔اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ڈرامائی اصولوں کی تشکیل میں صرف فنی نظریات ہی نہیں بلکہ اسٹیج کی تکنیکی سہولیات اور مختلف تہذیبوں کی نمائشی روایات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
Users Today : 1
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 357
Users Last 30 days : 1272
Users This Month : 54
Users This Year : 5260
Total Users : 24979
Views Today : 1
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 599
Views Last 30 days : 2706
Views This Month : 116
Views This Year : 10105
Total views : 58720
Who's Online : 0