نظم گوئی

نظم’’برق کلسا‘‘: اکبر الہ آبادی – مضمون نگار: ڈاکٹر احمد علی جوہر

خلاصہ: یہ نظم مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ نظم کے تین حصے ہیں۔ اس میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔ ایک مسلم نوجوان چرچ میں داخل ہوتا ہے اور ایک خوبصورت عیسائی لڑکی پر نظر پڑتے ہی وہ اسے دل و جان دے بیٹھتا ہے۔ اس کے حسن و رعنائی کا اسیر ہوجاتا ہے۔ اس حصے میں شاعر نے اس عیسائی لڑکی کی ناز و ادا، اس کی خوبصورتی اور دلفریبی کو بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مسلم نوجوان اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:

تیسرے حصے میں عیسائی لڑکی اس مسلم نوجوان کی محبت کو یوں ٹھکراتی ہے۔

وہ عیسائی لڑکی مسلمانوں کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مسلمان پنج وقتہ نماز کے پابند ہوتے ہیں، اسلام کی حفاظت کی خاطر مرد مجاہد بن جاتے ہیں۔ ان میں بےانتہا بہادری اور جانبازی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔

مسلمان اپنے دین و ایمان کے لئے سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں، اسلام کو زندہ رکھنے کے لئے دشمنان اسلام سے جنگ کرتے ہیں اور جنگ میں مرنے کو باعث نجات خیال کرتے ہیں، دین کی خاطر شہید ہونے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

آخری حصے میں مسلم نوجوان اس عیسائی لڑکی کو بتاتا ہے کہ تم نے مسلمانوں کی جتنی خوبیاں بیان کی ہیں، آج کے مسلمانوں میں وہ مفقود ہیں۔

وہ مسلم نوجوان اس عیسائی لڑکی سے مزید کہتا ہے کہ تم نے مسلمانوں کی جو صفات بتائی ہیں، وہ ماضی کے مسلمانوں کی صفات ہیں۔ میں آج کا مسلمان ہوں۔ مجھ میں وہ صفات نہیں پائی جاتی ہیں۔

میں تجھے بے انتہا چاہتا ہوں، تجھ پر مرمٹنے کو تیار ہوں۔ میں تیرے حسن پر اس قدر فریفتہ ہوچکا ہوں کہ میں تیری خاطر دین و ایمان، سب کچھ سے دستبردار ہونے کو تیار ہوں۔

اب اپنا دین و ایمان اور ہستی سب کچھ تم پر نچھاور کرتا ہوں۔ اب میری قوم میں نیکی و بدی پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی۔ اب مسلمان اللہ تعالٰی کو ایک ماننے کے باوجود ایک دوسرے سے لڑتا، جھگڑتا ہے۔ دور حاضر کے مسلمانوں کی ساری خرابیوں کو گنوائے کے بعد وہ مسلم نوجوان یہاں تک کہہ اٹھتا ہے کہ:

اے عیسائی لڑکی! تمہارے دل میں میرے متعلق جو شکوک و شبہات ہیں، اس کو نکال پھینکو۔ میں اس طرح مذہب کا پابند مسلمان نہیں ہوں جیسا تم سوچ رہی ہو۔ میرے متعلق اپنی غلط فہمی کو دور کرو اور

تو وہ عیسائی خوبصورت بلا فورا کہہ اٹھتی ہے:

رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار

ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار

زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید

قدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید

آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریں

گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں

گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے

دلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے

دل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیں

سرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں

آتش حسن سے تقوے کو جلانے والی

بجلیاں لطف تبسم سے گرانے والی

پہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرق

ترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق

پس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہی

سر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی

ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوا

یا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا

عرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہار

دولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار

تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے

ساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے

شوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولی

ناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولی

غیرممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے

بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے

لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کر

حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر

کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں

آگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں

گل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیں

پائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیں

مطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہاد

ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد

دشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئی

کامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی

عرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روح

اب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح

شجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیں

گیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں

اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف

ٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف

ہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگ

دل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ

یاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہ

سب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ

جوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثار

نور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار

اٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیک

دو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایک

موج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گرد

میں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگرد

مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں

نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں

جب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہم

تو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم

میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو

ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

Our Visitor

0 2 3 3 8 4
Users Today : 19
Users Yesterday : 22
Users Last 7 days : 202
Users Last 30 days : 937
Users This Month : 562
Users This Year : 3665
Total Users : 23384
Views Today : 25
Views Yesterday : 92
Views Last 7 days : 406
Views Last 30 days : 2008
Views This Month : 1141
Views This Year : 6851
Total views : 55466
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.10
Server Time : 19/05/2026 11:57 AM
error: Content is protected !!