خواجہ میر درد – اس نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
پاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیں
آ جائے ایسے جینے سے اپنا تو جی بتنگ
جیتا رہے گا کب تلک اے خضر مر کہیں
پھرتی رہی تڑپتی ہی عالم میں جا بہ جا
دیکھا نہ میری آہ نے روئے اثر کہیں
مدت تلک جہان میں ہنستے پھرا کیے
جی میں ہے خوب روئیے اب بیٹھ کر کہیں
یوں تو نظر پڑے ہیں دل افگار اور بھی
دل ریش کوئی آپ سا دیکھا نہ پر کہیں
ظالم جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ تو ولے
پچھتاوے پھر تو آپ ہی ایسا نہ کر کہیں
پھرتے تو ہو بنائے سج اپنی جدھر تدھر
لگ جاوے دیکھیو نہ کسو کی نظر کہیں
پوچھا میں درد سے کہ بتا تو سہی مجھے
اے خانماں خراب ہے تیرے بھی گھر کہیں
کہنے لگا مکان معین فقیر کو
لازم ہے کیا کہ ایک ہی جاگہ ہو ہر کہیں
درویش ہر کجا کہ شب آمد سرائے اوست
تو نے سنا نہیں ہے یہ مصرع مگر کہیں
Users Today : 15
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 387
Users Last 30 days : 1420
Users This Month : 1014
Users This Year : 6220
Total Users : 25939
Views Today : 29
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 766
Views Last 30 days : 2547
Views This Month : 1907
Views This Year : 11896
Total views : 60511
Who's Online : 0