سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا– شہر یار
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا
برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہا
خیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا
صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کا
مآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا
بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہے
کہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے کا
ہجوم دیکھتا ہوں جب تو کانپ اٹھتا ہوں
اگرچہ خوف نہیں اب کسی کے کھونے کا
گئے تھے لوگ تو دیوار قہقہہ کی طرف
مگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا
مرے وجود پہ نفرت کی گرد جمتی رہی
ملا نہ وقت اسے آنسوؤں سے دھونے کا
Users Today : 53
Users Yesterday : 114
Users Last 7 days : 970
Users Last 30 days : 2442
Users This Month : 340
Users This Year : 9746
Total Users : 29465
Views Today : 96
Views Yesterday : 179
Views Last 7 days : 1672
Views Last 30 days : 5505
Views This Month : 574
Views This Year : 19837
Total views : 68452
Who's Online : 1