سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا– شہر یار
سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا
کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا
برہنہ جسم بگولوں کا قتل ہوتا رہا
خیال بھی نہیں آیا کسی کو رونے کا
صلہ کوئی نہیں پرچھائیوں کی پوجا کا
مآل کچھ نہیں خوابوں کی فصل بونے کا
بچھڑ کے تجھ سے مجھے یہ گمان ہوتا ہے
کہ میری آنکھیں ہیں پتھر کی جسم سونے کا
ہجوم دیکھتا ہوں جب تو کانپ اٹھتا ہوں
اگرچہ خوف نہیں اب کسی کے کھونے کا
گئے تھے لوگ تو دیوار قہقہہ کی طرف
مگر یہ شور مسلسل ہے کیسا رونے کا
مرے وجود پہ نفرت کی گرد جمتی رہی
ملا نہ وقت اسے آنسوؤں سے دھونے کا
Users Today : 36
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 408
Users Last 30 days : 1441
Users This Month : 1035
Users This Year : 6241
Total Users : 25960
Views Today : 59
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 796
Views Last 30 days : 2577
Views This Month : 1937
Views This Year : 11926
Total views : 60541
Who's Online : 0