آدمی نامہ – نظیر اکبر آبادی
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
یونیورسٹی، کالج، اسکول، مدارس اور مقابلہ جاتی امتحانات کے اردو نصابات
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں
پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں
آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں
سینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں
جتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
اور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
دن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
اور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
چلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نے
ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی یوں لطف جتایا ہولی نے
ہر خاطر کو خورسند کیا ہر دل کو لبھایا ہولی نے
دف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نے
بازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے
ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں
سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں
بوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریں
ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
Users Today : 46
Users Yesterday : 106
Users Last 7 days : 468
Users Last 30 days : 2119
Users This Month : 1312
Users This Year : 8324
Total Users : 28043
Views Today : 90
Views Yesterday : 300
Views Last 7 days : 1171
Views Last 30 days : 5124
Views This Month : 3372
Views This Year : 16991
Total views : 65606
Who's Online : 1
Your IP Address : 216.73.217.108
Server Time : 20/08/2026 6:16 PM