اسکولاین سی ای آرٹی

حضرت محل

حضرت محل اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی بیگم تھیں۔ ان کا اصل نام محمدی خانم تھا۔ وہ ابتدا میں ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن اپنی ذہانت، ہمت اور صلاحیتوں کی بدولت شاہی محل تک پہنچیں۔

جب انگریزوں نے 1856ء میں اودھ پر قبضہ کرکے واجد علی شاہ کو معزول کر دیا تو حضرت محل نے انگریزوں کی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں انہوں نے مجاہدین کی قیادت کی اور اپنے کم عمر بیٹے برجیس قدر کو اودھ کا حکمران مقرر کیا۔

حضرت محل نے لکھنؤ میں انگریزوں کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ وہ نہایت بہادر، دور اندیش اور وطن دوست خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگ جاری رکھی اور انگریزوں کی پیش کردہ مراعات اور صلح کی شرائط کو قبول نہیں کیا۔

جنگ میں ناکامی کے بعد حضرت محل کو نیپال جانا پڑا، لیکن انہوں نے آخری وقت تک وطن کی آزادی کا خواب نہیں چھوڑا۔ ان کا انتقال نیپال میں ہوا، جہاں آج بھی ان کی قبر موجود ہے۔

حضرت محل ہندوستان کی ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھیں جنہوں نے جرات، قربانی، حب الوطنی اور استقلال کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔ ان کی زندگی ہمیں وطن سے محبت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتی ہے۔

اہم نکات

  • اصل نام: محمدی خانم
  • شوہر: واجد علی شاہ
  • بیٹا: برجیس قدر
  • 1857ء کی جنگِ آزادی میں اہم کردار
  • لکھنؤ میں انگریزوں کے خلاف قیادت
  • نیپال میں وفات اور تدفین


1۔ حضرت محل کون تھیں اور ان کا اصلی نام کیا تھا؟

جواب: حضرت محل تاجدار نواب واجد علی شاہ کی ملکہ تھیں اور مجاہد آزادی بھی تھیں۔انہوں نے اودھ پر حکومت کی۔ وہ ایک غیرت دار خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام محمدی بیگم تھا۔

2۔حضرت محل پارک کو پہلے کیا کہا جاتا تھا؟

جواب: حضرت محل پارک کو پہلے وکٹوریہ پارک کہا جاتا تھا۔

3۔ انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے میں ہندوستانی سپاہیوں کی قیادت کس نے کی؟

جواب: انگریزوں کے خلاف ہندوستانی سپاہیوں کی قیادت بیگم حضرت محل نے کی۔

4۔ حضرت محل نے راجہ مان سنگھ کو کیا اور کیوں انعام دیا؟

جواب: حضرت محل نے عالم باغ کے معرکے میں راجہ مان سنگھ کو ان کی غیر معمولی شجاعت کے اعتراف میں خلعت کے علاوہ فرزند خاص کا خطاب دیا اور ملبوس خاص سے اپنا دوپٹہ انعام میں دیا اور وعدہ کیا کہ فتحیابی پر اس سے کہیں کچھ بڑھ کر دیا جائے گا۔

5۔ آزادی کی تحریک کے بڑے مراکز کون کون سے تھے اور وہ کس کے قبضے میں تھے؟

جواب: آزادی کی تحریک کے بڑے مراکز دلی، جھانسی اور اودھ تھے۔ دلی کے بہادر شاہ ظفر، جھانسی کی رانی لکشمی بائی اودھ کی بیگم حضرت محل کے قبضے میں تھے۔

6۔حضرت محل کی آخری آرام گاہ کہاں پر ہے؟

جواب: نیپال کے کٹھمنڈو کی ہندوستانی مسجد میں حضرت محل کی ابدی آرام گاہ ہے۔

منسوبیہ کتاب بہادر شاہ ظفر سے منسوب ہے۔
جبرواستدادہندوستانی انگریزوں کے جبر و استعداد کے شکار تھے۔
خطاببیگم حضرت محل نے راجہ مان سنگھ کو فرزند خاص کا خطاب دیا۔
سر فروشہندستانی فوج میں سرفروش سپاہیوں کی کثیر تعداد تھی۔
لشکر جراروہ لشکر جرار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑیں۔
پیش کشانگریزوں نے صلح کی پیش کش کی۔
صلح نامہانگریزوں نے صلح نامہ پر دستخط کر دی
خاتونخواتین
عقیدہعقیدے
تحریکتحریکات
معرکہمعرکے
خطابخطابات
مرکزمراکز
مجاہد مجاہدین 
فتحشکست
آزادیغلامی
جدیدقدیم
عارضیمستقل
پائیدارناپائیدار

Our Visitor

0 2 6 7 9 4
Users Today : 4
Users Yesterday : 59
Users Last 7 days : 492
Users Last 30 days : 1816
Users This Month : 63
Users This Year : 7075
Total Users : 26794
Views Today : 6
Views Yesterday : 208
Views Last 7 days : 1229
Views Last 30 days : 3729
Views This Month : 214
Views This Year : 13833
Total views : 62448
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.17
Server Time : 02/08/2026 3:54 AM
error: Content is protected !!