اعتبار – سدرشن (اپنی زبان 7)

سبق کا خلاصہ
بابا بھارتی اپنے گھوڑے سلطان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سلطان ایک نہایت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا جس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایک مشہور ڈاکو کلہن نے سلطان کو دیکھا تو اسے حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ایک دن اس نے اپاہج کا بھیس بدل کر بابا بھارتی سے مدد مانگی۔ بابا بھارتی نے ہمدردی کرتے ہوئے اسے اپنے گھوڑے پر بٹھا لیا، مگر وہ دراصل کلہن تھا جو سلطان کو لے کر بھاگ گیا۔
بابا بھارتی نے گھوڑا واپس مانگنے کے بجائے کلہن سے درخواست کی کہ اس واقعے کا ذکر کسی سے نہ کرے، کیونکہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو گیا تو وہ غریب اور ضرورت مند افراد پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے۔ بابا بھارتی کی اس اعلیٰ سوچ اور انسان دوستی نے کلہن کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسی رات وہ سلطان کو واپس بابا بھارتی کے اصطبل میں باندھ گیا۔
صبح جب بابا بھارتی نے سلطان کو دیکھا تو خوشی سے اس کے گلے لگ کر رونے لگے اور کہا کہ اب لوگ غریبوں کی مدد کرنے سے انکار نہیں کریں گے۔ اس کہانی سے انسان دوستی، ہمدردی اور اعتماد کی اہمیت کا سبق ملتا ہے۔
سوچیے اور بتائیے
1. بابا بھارتی اپنا گھوڑا دیکھ کر کیوں خوش ہوتے تھے ؟
جواب: بابا بھارتی اپنا گھوڑا دیکھ کر اس لیے خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کا گھوڑا بہت ہی خوب صورت تھا۔ اس کے مقابلہ کا گھوڑا پورے علاقے میں نہ تھا۔
2. بابا بھارتی کے گھوڑے کی چال کیسی تھی؟
جواب: بابا بھارتی کے گھوڑے کی چال ایسی تھی جیسے طاؤس اودی اودی گھٹاوں میں ناچ رہا ہو۔
3. کلہن کون تھا؟ بابا اس سے خوفزدہ کیوں رہتے تھے؟
جواب: کلہن اس علاقہ کا مشہور ڈاکو تھا بابا اس سے خوفزدہ اس لیے تھا کیوں کہ اس کی نظر بابا بھارتی کے گھوڑے پر تھی اور وہ اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔
سوال: بابا بھارتی کا گھوڑا دیکھ کر کلہن کے سینے پر سانپ کیوں لوٹ گئے؟
جواب: چوںکہ بابا بھارتی کا گھوڑابہت ہی خوب صورت تھا اس کے مقابلہ کا گھوڑا پورے علاقے میں نہ تھا اس لیے کلہن کو اسے پانے کی چاہ ہوئی۔
سوال: اپاہج بن کر بابا بھارتی سے کس نے مدد مانگی؟
جواب: اپاہج بن کر بابا بھارتی سے کلہن نے مدد مانگی۔
سوال: بابا بھارتی نےکلہن سے کیا درخواست کی؟
جواب: بابا بھارتی نےکلہن سےدرخواست کی کہ کسی سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا ۔
سوال: بابا بھارتی نے کلہن سے کیوں کہا کہ واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا؟
جواب: بابا نے ایسا اس لیے کہا کہ اگر لوگوں کو اس واقعے کا پتہ چلے گا تو وہ غریبوں اور معذوروں کی مدد کرنا چھوڑ دیں گے ۔
سوال: کلہن نے بابا بھارتی کہ بارے میں کیا سوچ کر گھوڑا ان کے اصطبل میں باندھ دیا؟
جواب: کلہن نے سوچا انہیں صرف یہ خیال ستا رہا ہے کہ کہیں لوگ غریبوں پر اعتبار کرنا چھوڑ نہ دیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی نقصان کو انسانیت کے نقصان پر قربان کر دیا ۔ کلہن بابا بھارتی کے اچھے کردار سے متاثر ہوگیا اور یہ سوچ کر اس نے گھوڑا بابا بھارتی کہ اصطبل میں باندھ دیا ۔
سوال: اپنے گھوڑے کو واپس پا کر بابا بھارتی نے کیا کہا ؟
جواب: گھوڑے کو واپس پا کر بابا بھارتی نے کہا اب کوئی غریبوں کی مدد کرنے سےانکار نہیں کرے گا۔
نیچے لکھے ہوئی لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
| لہلہانا | باغ میں پھول لہلہا رہے تھے۔ |
| فریفتہ | وہ اپنے استاد پر فریفتہ تھا۔ |
| خوف | خوف ِخدا سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ |
| مہربانی | ہمیں سب سے مہربانی سے پیش آنا چاہیے۔ |
| قسمت | قسمت کے بھروسے بیٹھے رہنا ٹھیک نہیں۔ |
| مدد | ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ |
| بے پروا | صبا اپنے کام سے بے پروا ہے۔ |
| درخواست | نسیم نے احمد سے مدد کی درخواست کی۔ |
| قوت | مکے باز نے پوری قوت سے گھونسہ مارا۔ |
| احتیاط | مچھلی کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ |
عملی کام
خوف زدہ ، خبر گیری ، بے پروا اور روپوش مرکب الفاظ ہیں ۔ مرکب سے مراد ایسا لفظ ہے جس میں ایک سے زیاده لفظ اس طرح مل گئے ہوں یا ملا دیے گئے ہوں کہ ان سے ایک ہی معنی لیے جاتے ہوں ۔ اس طرح آپ بھی پانچ نئے لفظ بنائیے۔
غور کیجیے اور لکھیے۔
بابا بھارتی، دہلی،گنگا
لڑکا،گھوڑا،دریا
روشنی، خوشی ،غصّہ
* پہلی قسم کے نام خاص ہیں یا کسی خاص آدمی یا کسی شہر یا کسی خاص دریا کے لیے استعمال ہوئے ہیں انہیں اسم خاص یا اسم معرفہ کہتے ہیں۔
* دوسری قسم کے نام عام ہیں کہ کوئی بھی لڑکا یا کوئی بھی گھوڑا کوئی بھی دریا ہوسکتا ہے انھیں اسم عام یا اسم نکرہ کہتے ہیں۔
* تیسری قسم کے نام کسی خاص حالت با کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں ۔ انھیں اسم کیفیت کہتے ہیں۔
آپ بھی ان تینوں قسموں کے اسم تین تین سوچ کر لکھیے۔
شاہجہاں،آگرہ،جمنا
لڑکی،بکری، ندی
اندھیرا ،برائی، دوستی
غور کرنے کی بات
* پنڈت سدرشن اردو کے مشہور افسانہ نگار تھے۔ انھوں نے کئی دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں لکھی ہیں ۔
* کاہن ڈاکو بابا بھارتی کے گھوڑے کو دھوکے سے حاصل تو کر لیتا ہے لیکن وہ بابا بھارتی کے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر گھوڑے کولوٹا دیتا ہے۔
* ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ اچھے کردار کے اثر سے برے لوگ بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور وہ اچھا عمل کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔

Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0