خواجہ میر درد – مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی
افتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں
ہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگار
ہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں
کرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاط
پر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں
تو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگ
کنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں
اے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سے
میں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں
Users Today : 47
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 513
Users Last 30 days : 1970
Users This Month : 1213
Users This Year : 13022
Total Users : 32741
Views Today : 68
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1089
Views Last 30 days : 4298
Views This Month : 2658
Views This Year : 26837
Total views : 75452
Who's Online : 0