زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے- راجندر منچندا بانی
زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے
میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے
دکھا کے لمحۂ خالی کا عکس لاتفسیر
یہ مجھ میں کون ہے مجھ سے فرار کرتے ہوئے
بس ایک زخم تھا دل میں جگہ بناتا ہوا
ہزار غم تھے مگر بھولتے بسرتے ہوئے
وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا
کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے
عجب نظارا تھا بستی کا اس کنارے پر
سبھی بچھڑ گئے دریا سے پار اترتے ہوئے
میں ایک حادثہ بن کر کھڑا تھا رستے میں
عجب زمانے مرے سر سے تھے گزرتے ہوئے
وہی ہوا کہ تکلف کا حسن بیچ میں تھا
بدن تھے قرب تہی لمس سے بکھرتے ہوئے
Users Today : 1
Users Yesterday : 101
Users Last 7 days : 568
Users Last 30 days : 2025
Users This Month : 1268
Users This Year : 13077
Total Users : 32796
Views Today : 1
Views Yesterday : 176
Views Last 7 days : 1198
Views Last 30 days : 4407
Views This Month : 2767
Views This Year : 26946
Total views : 75561
Who's Online : 0