میر تقی میر کا تعارف

محمد تقی میر 20 ستمبر 1722ء میں اکبر آباد (آگرہ) میں پیدا ہوئے ۔ 1810ء میں وہ لکھنو میں وفات پاگئے ۔ میر کے بزرگ حجاز سے دکن آئے تھے مگر ان کے پردادا اکبر آباد گئے اور وہیں سکونت اختیار کی ۔ میر کے والد ایک گوشہ نشیں درویش تھے۔ میر نے اپنی خود نوشت ذکر میر میں اپنے والد کے بارے میں لکھا ہے:
وہ ایک صالح عاشق پیشہ شخص تھے گرم دل کے مالک شب زندہ دار اور روز حیران کار
میر اپنے والد کی صحبت سے متاثر ہوئے ذکر میر میں درج ہے کہ ان کے والد ان سے کہا کرتے ” اے بیٹے عشق اختیار کر کیونکہ عشق کے بغیر زندگی وبال ہے دنیا میں جو کچھ ہے عشق کا مظہر ہے۔ بد قسمتی سے گیارہ سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ والد کی وفات کے بعد ان کے سوتیلے بھائی حافظ محمد حسن نے ان سے برا سلوک کیا۔ جب تک وہ آگرے میں رہے ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری میر امان اللہ نے قبول کی ۔ میرامان اللہ خود درویشانہ طبیعت رکھتے تھے۔ وہ میر کے والد کے بہت قریب تھے۔ میران کو ہم بزرگوار سے موسوم کرتے تھے۔ ظاہر ہے میر کی ابتدائی زندگی تیمی بے کسی اور ناداری میں گزری۔ ان کے سوتیلے ماموں خان آرزو نے بھی ان کو دینی تکلیف پہنچائی ان حالات میں میر جو ایک غم پسند دل لے کے آئے تھے زیادہ ہیں دردوغم میں ڈوب گئے ۔ یہ احساس غم ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ بے سرو سامانی کی حالت میں انھیں تلاش معاش کے لیے گھر سے نکلنا پڑا لیکن یہاں بھی ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا ۔ اس حالت میں انھیں جنون کے دورے پڑنے لگے اور وہ بے دماغی اور بدد مافی کے شکار ہوئے۔ جیسا کہ انھوں نے خود بھی لکھا ہے
بے دماغی ، بے قراری ، بے کسی ، بے طاقتی
کیا جئیں وہ روگ جن کے جی کو یہ اکثر رہیں
صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ
تھا میر بے دماغ کو بھی کیا ملا دماغ
اس میں کوئی شک نہیں کہ میر ایک گہری افسردگی کے شکار رہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے ان کی شخصیت میں انسانی دردمندی کا رخ اختیار کیا۔ دردمندی نے ان کی شخصیت میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دی۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ نے لکھا ہے۔:
ان کے غم انگیز اشعار کو پڑھ کر طبیعت کند نہیں ہوتی ۔ ان کا غم پر لطف معلوم ہوتا ہے ۔ ان کے غم میں شریک ہونے کو جی چاہتا ہے؟
چونکہ میر کی طبیعت پر ان کے والد کے گہرے اثرات تھے اور انھیں عشق کرنے کی تلقین کرتے تھے اس لیے وہ اوائل عمر سے ہی جذبہ عشق سے آشنا ہوئے ۔ چنا نچہ نشی احمد حسین سحر نے لکھا ہے :
مشہور است اگر بشیر خویش با پری تمثالی اگر از عزیزانش بود در پردہ تعشق طبع و میل خاطر داشته "
(یہ بات مشہور ہے کہ ان کو اپنے شہر میں ایک پری پیکر سے جو ان کی رشتہ دار تھی در پردہ عشق اور دلی رغبت تھی )
میر کی زندگی کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ آگرے میں مصیبتوں کا سامنا کرنے کے باوجود جب روزگار کی کوئی صورت نہ کی تو خواجہ محمد باسط کے توسط سے ان کے چچا صمصام الدولہ امیر الامراء نے دہلی میں ان کے لیے ایک روپے کا روزینہ مقرر کیا لیکن اسی زمانے میں نادر شاہ نے دلی پر چڑھائی کی اور اس شہر کو تباہ کیا۔ جنگ میں صمصام الدولہ قتل ہوئے اور میر روزینے سے محروم ہو گئے ۔ اس کے بعد وہ واپس آگرہ گئے وہاں مایوسی کا سامنا کرنے پر پھر دتی کا رخ کیا ۔ دلّی میں ان کی زندگی ہم شکستوں اور محرمیوں سے عبارت رہی، مختلف امیروں اور نوابوں کے یہاں ملازمت اختیار کی لیکن یہ مستقل آمدنی کا ذریعہ نہ بن سکی آخر کار وہ دلی چھوڑ کر لکھنؤ چلے گئے، لکھنؤ کی روانگی کے بارے میں خود لکھتے ہیں :
ان ایام میں فقیر خانہ نشین تھا اور چاہتا تھا کہ شہر سے نکل جائے لیکن زاد راہ سے مجبور تھا میری عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے نواب وزیر الممالک آصف الدولہ کے دل میں خیال آیا کہ میر پاس آئے تو اچھا ہے۔“
لکھنؤ میں آصف الدولہ سے قربت رہی لیکن اب وہ غم حیات سے بجھ چکے تھے ۔ آخر بہ روز جمعہ 20 ستمبر 1810ء کو لگ بھگ 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
میر کی تصانیف درج ذیل ہیں:
غزلوں کے چھے دیوان ، ایک فارسی دیوان، شعرائے اردو کا تذکرہ به عنوان نکات الشعراء، خود نوشت سوانح عمری بھی عنوان میر، کئی مثنویاں، ایک رسالہ بہ زبان فارسی۔
ناصر کاظمی لکھتے ہیں:میر نے نوے سال کی طویل زندگی میں عالم نقاد عشق پیشہ بادشاہوں کے ہم نشیں درویش ایک بڑے شاعر غرض ایک بھر پور شخصیت تھے۔ انھوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا (میر ہمارے عہد میں )
( بشکریہ : ماخوذ از درسیاتی کتاب برائے ایم اے اردو (فاصلاتی تعلیم) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی)

Users Today : 97
Users Yesterday : 104
Users Last 7 days : 766
Users Last 30 days : 2355
Users This Month : 766
Users This Year : 14699
Total Users : 34418
Views Today : 213
Views Yesterday : 178
Views Last 7 days : 1401
Views Last 30 days : 4497
Views This Month : 1401
Views This Year : 29878
Total views : 78493
Who's Online : 0