اسکولاین سی ای آرٹی

ابن انشا جرمنی میں

اس انشائیے میں مصنف نے نہایت دل چسپ اور مزاحیہ انداز میں بیرونِ ملک سفر کے دوران زبان کی ناواقفیت سے پیدا ہونے والی مشکلات اور ان سے وابستہ یادگار واقعات بیان کیے ہیں۔

مصنف ایک موقع پر جرمنی کے شہر ہیمبرگ پہنچے۔ وہ اپنے دوست مشتاق احمد یوسفی کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر کھڑے تھے۔ تیز ہوا چل رہی تھی اور ان کے بال بار بار بکھر رہے تھے، اس لیے انہوں نے ایک دکان سے کنگھا خریدنے کا ارادہ کیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ دکاندار انگریزی نہیں سمجھتا تھا اور مصنف جرمن زبان سے ناواقف تھے۔ چنانچہ انہوں نے اشاروں اور حرکات کے ذریعے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی، مگر دکاندار ان کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ اسی دوران مسٹر کیدرلین وہاں آ پہنچے۔ ان کی موجودگی میں دکاندار فوراً سمجھ گیا کہ مطلوبہ چیز کنگھا ہے اور اس نے کئی کنگھے نکال کر سامنے رکھ دیے۔ یوں مصنف کی مشکل آسان ہو گئی۔

دوسرا واقعہ فرینکفرٹ میں پیش آیا۔ ایک اتوار کی صبح مصنف شیو بنانے لگے تو معلوم ہوا کہ بلیڈ موجود نہیں۔ انہوں نے اپنا سامان اچھی طرح دیکھا مگر بلیڈ نہ ملا۔ مجبوراً وہ خریدنے کے لیے نیچے ہوٹل کے کاؤنٹر پر گئے اور دریافت کیا کہ بلیڈ کہاں مل سکتا ہے۔ زبان کے فرق کی وجہ سے کاؤنٹر پر موجود شخص ان کی بات نہ سمجھ سکا اور یہ گمان کر بیٹھا کہ شاید وہ ہوٹل چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جب مصنف نے وضاحت کی کہ انہیں صرف شیو کے لیے بلیڈ چاہیے تو اس نے بتایا کہ اتوار کے باعث اکثر دکانیں بند ہیں، البتہ ریلوے اسٹیشن پر شاید یہ چیز مل جائے۔

مصنف اسٹیشن پہنچے تو ایک چھوٹی سی دکان میں ایک بزرگ خاتون نظر آئیں۔ انہوں نے جرمن زبان کے چند الفاظ اور اشاروں کی مدد سے اپنی ضرورت بیان کی۔ پہلے بلیڈ کا جرمن لفظ ادا کیا، پھر شیو کا ذکر کیا اور داڑھی پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا۔ بزرگ خاتون فوراً ان کی بات سمجھ گئیں اور انہیں بلیڈ فراہم کر دیا۔

تیسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب مصنف ایک ٹیکسی میں سفر کر رہے تھے۔ راستے میں کسی بات پر ٹیکسی ڈرائیور نے انگریزی میں گفتگو شروع کر دی۔ مصنف کو خوشگوار حیرت ہوئی اور انہوں نے اس کی انگریزی کی تعریف کی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ اصل میں لندن کا رہنے والا ہے اور جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور ہسپانوی زبانوں سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ منزل پر پہنچنے کے بعد مصنف نے کرایہ ادا کیا، ڈرائیور نے شکریہ ادا کیا اور رخصت ہو گیا۔

یہ تمام واقعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اجنبی زبان اور نئے ماحول میں انسان کو طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن حاضر دماغی، صبر اور مزاحیہ اندازِ فکر ان مشکلات کو خوش گوار یادوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔


1. ابن انشاکہاں گئے ہوئے تھے؟
جواب: ابن انشا جرمنی کے شہر ہیمبرگ گئے ہوئے تھے۔

2. ابن انشا نے کنگھا خریدنے کے لیے کیا کیا اشارے کیے؟
جواب:انہوں نے بالوں کی پٹیاں ہاتھ سے جما کر دکھائیں۔ ٹیڑھی مانگ نکالی۔سیدھی مانگ نکالی۔بالوں میں انگلیوں سے کنگھا کر کے دکھایا۔

3. ٹیکسی ڈرائیور کون تھا اور کون کون سی زبانیں جانتا تھا۔؟
جواب: ٹیکسی ڈرائیور لندن کا رہنے والا تھا۔ وہ برٹش آرمی میں افسر تھا۔وہ انگریزی ، اردو، جرمن، فرنچ،اٹالین اور ہسپانوی جانتا تھا۔

4.  بڑی بی نے بلیڈ خریدتے وقت ابن انشا کی کیا مدد کی؟
جواب: بڑی بی ابن انشا کا اشارہ جلد سمجھ گئیں اور انہیں بلی، کا پیکٹ نکال کر دے دیا۔

5. ابن انشا نے میونخ میں خاتون کو کس طرح خوش کیا؟
جواب: ابن انشا نے میونخ میں خاتون کو فیض کے دو تین اشعار کا ترجمہ سنایا جس سے وہ بہت خوش ہوئیں۔

خالی جگہوں کو صحیح الفاظ سے بھریے۔
COMB تو خیر وہ کیا سمجھتا۔ ہم نے بالوں میں انگلیوں سے کنگھا کرکے دکھایا۔ اس نے پہلے کریم کی ایک شیشی پیش کی۔ہم نے رد کردی تو شیمپو کی ایک ٹیوب دکھائی۔اس پر ہم نے ہامی نہ بھری تو وہ بالوں کی ایک وگ دکھانے لگا۔ہم نےبالوں کی پٹیاں ہاتھ سے جماکر دکھائیں۔ٹیڑھی مانگ نکالی سیدھی مانگ نکالی۔


قطار(لائن): لوگ قطار میں کھڑے تھے۔
مقصد(ارادہ): اس کا مقصد پورا نہ ہوسکا۔
مقام(جگہ): ابن انشا اس مقام تک پہنچ کر رک گئے۔
شائستہ: اس نے شائستہ لہجہ میں پوچھا۔
فروخت(بیچنا): دوکاندار نے کنگھا فروخت کر دیا۔

ترکیبتراکیب
دوکاندوکانیں
انگلیوںانگلی
تحریریںتحریر
راہراہیں
مٹھائیمٹھائیاں
زبانوںزبان
خرابیخرابیاں
خوبیوںخوبی
خبرخبریں
بوڑھاجوان
ہوشیاربے وقوف
خوشاداس
مغربمشرق
باقاعدہبے قاعدہ

Our Visitor

0 2 6 7 9 4
Users Today : 4
Users Yesterday : 59
Users Last 7 days : 492
Users Last 30 days : 1816
Users This Month : 63
Users This Year : 7075
Total Users : 26794
Views Today : 6
Views Yesterday : 208
Views Last 7 days : 1229
Views Last 30 days : 3729
Views This Month : 214
Views This Year : 13833
Total views : 62448
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.17
Server Time : 02/08/2026 3:55 AM
error: Content is protected !!