ایک مزےدار کہانی

سبق کا خلاصہ
تین موسموں کا جھگڑا
مرزا فرحت اللہ بیگ کی یہ دلچسپ کہانی تین موسموں—جاڑا، گرمی اور برسات—کے درمیان برتری کے دعوے پر مبنی ہے۔
ایک مرتبہ جاڑے، گرمی اور برسات میں بحث چھڑ گئی۔ ہر موسم خود کو سب سے بہتر ثابت کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ گرمی کا کہنا تھا کہ وہ سب سے اچھی ہے، جاڑا اپنی فضیلت بیان کر رہا تھا اور برسات بھی خود کو سب سے بہتر قرار دے رہی تھی۔ جب ان کا جھگڑا کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی غیر جانبدار شخص سے اپنی اچھائی کا فیصلہ کروایا جائے۔
راستے میں انہیں ایک بوڑھی عورت ملی۔ سب سے پہلے جاڑے نے اس سے پوچھا، ’’بڑی بی! تمہیں جاڑا کیسا لگتا ہے؟‘‘
بوڑھی عورت بولی، ’’بیٹا! جاڑے کی خوبیاں تو بے شمار ہیں۔ اس کا موسم بہت خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے فائدے بھی بہت ہیں۔‘‘
یہ سن کر جاڑا بہت خوش ہوا اور اس نے انعام کے طور پر بوڑھی عورت کو ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی دے دی۔
اس کے بعد گرمی نے سوال کیا، ’’بڑی بی! مجھے کیسا سمجھتی ہو؟‘‘
بوڑھی عورت نے جواب دیا، ’’گرمی کے اپنے لطف ہیں۔ اس موسم میں کئی نعمتیں اور خوشیاں میسر آتی ہیں۔‘‘
گرمی بھی اپنی تعریف سن کر خوش ہو گئی اور اس نے بھی ایک ہزار اشرفیاں انعام میں دے دیں۔
آخر میں برسات نے پوچھا، ’’بڑی بی! تمہاری نظر میں برسات کیسی ہے؟‘‘
بوڑھی عورت بولی، ’’برسات میں بادل چھاتے ہیں، بارش برستی ہے اور فضا میں تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘
یہ سن کر برسات بھی خوشی سے جھوم اٹھی اور اس نے بھی ایک ہزار اشرفیاں بوڑھی عورت کو دے دیں۔
اب بوڑھی عورت کے پاس تین ہزار اشرفیاں جمع ہو چکی تھیں۔ اس کی زندگی میں خوش حالی دیکھ کر اس کی ایک پڑوسن نے اس کامیابی کا راز دریافت کیا۔ جب اسے پوری بات معلوم ہوئی تو اس نے بھی ویسا ہی فائدہ اٹھانے کا ارادہ کیا۔ وہ گھر والوں سے ناراض ہو کر جنگل میں جا بیٹھی تاکہ موسموں سے ملاقات ہو سکے۔
اتفاق سے کچھ عرصے بعد تینوں موسم دوبارہ ملے۔ انہوں نے کہا، ’’پہلی بوڑھی عورت تو بڑی چالاک نکلی۔ ہم سب کی تعریفیں کرکے تین ہزار اشرفیاں لے گئی اور ہمارے جھگڑے کا فیصلہ بھی نہ کر سکی۔‘‘
اتنے میں انہیں ایک اور بوڑھی عورت دکھائی دی۔ سب سے پہلے جاڑے نے اس سے پوچھا، ’’بڑی بی! تمہیں جاڑا کیسا لگتا ہے؟‘‘
بوڑھی عورت نے جواب دیا، ’’جاڑا تو بہت برا ہوتا ہے۔ سردی سے لوگ ٹھٹھر جاتے ہیں اور کئی طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘
جاڑا یہ سن کر ناراض ہو گیا۔
پھر گرمی نے پوچھا، ’’اور میں کیسی ہوں؟‘‘
بوڑھی عورت بولی، ’’گرمی تو اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پسینہ بہتا ہے، بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور لوگ پریشان رہتے ہیں۔‘‘
یہ سن کر گرمی بھی غصے میں آ گئی۔
آخر میں برسات نے اپنی باری پر سوال کیا، ’’میرے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
بوڑھی عورت نے کہا، ’’برسات میں کیچڑ ہو جاتا ہے، گندگی پھیلتی ہے اور بادلوں کی گرج لوگوں کو خوف زدہ کر دیتی ہے۔‘‘
اس جواب نے برسات کو بھی ناراض کر دیا۔ غصے میں آ کر اس نے بوڑھی عورت کو سخت سزا دی اور وہاں سے چلی گئی۔
سبق
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ نرم مزاجی، خوش اخلاقی اور شیریں گفتگو انسان کو عزت اور کامیابی دلاتی ہے۔ جو لوگ ہر حال میں شکر گزار رہتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آتے ہیں، وہ سب کے محبوب بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہر وقت شکایت کرنے والے اور تلخ باتیں کرنے والے لوگ دوسروں کی ناراضی اور اپنی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
سوال: جاڑا، گرمی اور برسات کا آپس میں جھگڑا کیوں ہوا؟
جواب: یہ تینوں موسم اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھ رہے تھے اس لیے ان کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔
سوال: جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا؟
جواب: انہوں نے ایک آدم زاد سے صلاح لینے کا فیصلہ کیا۔
سوال: جاڑے کی کن خوبیں کو بڑی بی نے بیان کیا؟
جواب: جاڑے میں انگیٹھیاں سلگ رہی ہوتی ہیں جن کے چاروں جانب بیٹھ کر گرمی کا مزا لیا جاتا ہے سرد موسم میں دولائی اوڑھ کر گرم گرم چائے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔
سوال: گرمی کے بارے میں بڑی بی کا کیا خیال تھا؟
جواب: گرمی میں مختلف قسم کے پھل کھانا، قلفی کھانا، طرح کی سبزیاں پھلنا اور خوبصورت پھولوں کا کھلنا بڑی بی کی نظر میں گرمی کی خوبیاں تھیں۔
سوال: مصنف نے برسات کا کیا حلیہ بتایا؟
جواب: برسات کا سانولا نمکین چہرہ تھا۔ چمکدار روشن آنکھیں، بھورے بال ان میں سے پانی ایسے ٹپک رہا تھا جیسے موتی ہو۔ ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں کھنکھنا رہی تھیں۔
سوال: بڑی بی کو نذر میں تھیلیاں کیوں ملیں؟
جواب: بڑی بی نے سب کی تعریفیں کیں اس لیے سب نے بڑی بی کی خدمت میں تھیلیاں پیش کیں۔
سوال: بڑی بی کے گھر میں چہل پہل سے پڑوسن پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس سے بڑی بی کی خوشی دیکھی نہ گئی اور وہ بھی بڑی بی کی نقل میں جاکر جنگل میں بیٹھ گئی۔
سوال: بدزبان بڑھیا جاڑے کے ساتھ کس طرح پیش آئی؟
جواب: اس نے جاڑے کو بہت برا بھلا کہا۔ اس نے جاڑے کی برائی کرتے ہوئے کہا کہ جاڑے میں لوگوں کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ اور ان کی ناک بہنے لگتی ہے۔
سوال: برسات کی کون کون سی باتوں کو بڑھیا نے ناپسند کیا۔
جواب: بجلی گرنے اور بادل گرجنے سے کلیجہ ہل جاتا ہے۔ دھم دھم کی آواز آتی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہی کیچڑ سے کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ رات کو مچھر ستاتے ہیں۔ رات کی نیند اور دن کا چین چلا جاتا ہے۔
سوال: بڑھیا کے ساتھ برسات کا سلوک کیسا تھا؟
جواب: برسات کی نگاہ بجلی بن کر گری اوربڑی بی کے پیروں کو چاٹتی ہوئی نکل گئی۔ اور بی برسات بڑھیا کو لنگڑا کر کے منہ پر تھوک کر رخصت ہوئی۔
خالی جگہ کو صحیح لفظ بھریے
انھیں دنوں جاڑا، گرمی اور برسات میں جھگڑا ہوا۔
باجرے کا ملیدا بن رہا ہے رس کی کھیر پک رہی ہے۔
میاں جاڑے اپنی تعریفیں سن سن کر پھولے نہ سماتے تھے۔
نانی جان خدا تمہارا بھلا کرے تم نے آج میری لاج رکھ لی۔
مینہہ چھم چھم برس رہا ہے۔
نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے
| صلاح | (مشورہ) | ہمیں بڑوں کی صلاح لینی چاہیے۔ |
| تصفیہ | (فیصلہ) | ان دونوں کے درمیاں تصفیہ ہو گیا۔ |
| بیاباں | (جنگل) | وہ بیابان میں جا کر بیٹھ گئی۔ |
| ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بھار آئی ہے۔ | ||
| آدم نہ آدم زاد | دور تک آدم نہ آدم زاد تھا۔ | |
| ملہار | (برسات کے موسم میں گانے والے گیت) | کسان بارش دیکھ کر ملہار گانے لگے۔ |
نیچے لکھے ہوئے واحد اور جمع کو الگ الگ کرکے لکھیے
| واحد | جمع |
| بچا | بچے |
| تعریف | تعریفیں |
| قلفی | قلفیاں |
| اشرفی | اشرفیاں |
| چوڑی | چوڑیاں |
| گھٹا | گھٹائیں |
| مہاوٹ | مہاوٹیں |
| فاصلہ | فاصلے |
پڑھیے اور سمجھیے۔
سورج نکل رہا ہے
اکبرا بھی ناشتہ کر رہا ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ کام شروع تو ہوا لیکن ابھی ختم نہیں ہوا۔ انھیں حال نا تمام کہتے ہیں ۔
چاند نکل آیا ہے
وہ اسکول جا چکی ہے
اوپر کے جملوں میں خط کشیدہ افعال سے پتہ چلتا ہے کہ کام ختم ہو چکا ہے انھیں حال تمام کہتے ہیں۔
غور کرنے کی بات
* مرزا فرحت اللہ بیگ اس کہانی کے مصنف ہیں ۔ وہ اردو کے ممتاز نثر نگار تھے۔ وہ اپنی مخصوص انداز میں دلی کی بول چال کی زبان اس خوب صورتی سے لکھتے ہیں کہ پڑھنے والوں کو مزہ آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سچ مچ ہمارے سامنے بیٹھا مزے دارکہانی سنا رہا ہو۔ انھوں نے اس کہانی میں جاڑا، گرمی اور برسات کی اچھائیوں اور برائیوں کو اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔
* ہندستان میں تین موسم ہوتے ہیں : موسم سرما، گرما اور برسات۔ اس کے علاوہ ایک اور موسم بھی کئی ملکوں میں ہوتا ہے جسے موسم بہار کہتے ہیں۔ ان موسموں کی اپنی اپنی خوبیاں اور کمیاں ہیں۔ ہر موسم میں اللہ تعالی نے مختلف پھول، پھل اور سبزیاں انسان کےلیے پیدا کیں۔ برسات کے موسم کا خاص طور پر کسان بڑا استعمال کرتے ہیں ۔ اس موسم میں کئی تہوار بھی ہوتے ہیں۔ باغوں میں جھولے پڑ جاتے ہیں ۔ ملہار اور گیت گائے جاتے ہیں۔

Users Today : 2
Users Yesterday : 53
Users Last 7 days : 358
Users Last 30 days : 1273
Users This Month : 55
Users This Year : 5261
Total Users : 24980
Views Today : 2
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 600
Views Last 30 days : 2707
Views This Month : 117
Views This Year : 10106
Total views : 58721
Who's Online : 0