علامہ اقبال – ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
Users Today : 5
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 413
Users Last 30 days : 1449
Users This Month : 1004
Users This Year : 6210
Total Users : 25929
Views Today : 8
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 829
Views Last 30 days : 2621
Views This Month : 1886
Views This Year : 11875
Total views : 60490
Who's Online : 0