غزل

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے- پروین شاکر

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں

کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس

سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب

دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں

زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے

جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی

لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

Our Visitor

0 2 5 9 6 0
Users Today : 36
Users Yesterday : 63
Users Last 7 days : 408
Users Last 30 days : 1441
Users This Month : 1035
Users This Year : 6241
Total Users : 25960
Views Today : 59
Views Yesterday : 115
Views Last 7 days : 796
Views Last 30 days : 2577
Views This Month : 1937
Views This Year : 11926
Total views : 60541
Who's Online : 0
Your IP Address : 216.73.217.7
Server Time : 21/07/2026 5:17 PM
error: Content is protected !!