غزل – مرزا اسد اللہ خاں غالب
کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر
زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
Users Today : 48
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 514
Users Last 30 days : 1971
Users This Month : 1214
Users This Year : 13023
Total Users : 32742
Views Today : 69
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1090
Views Last 30 days : 4299
Views This Month : 2659
Views This Year : 26838
Total views : 75453
Who's Online : 0