غزل

میر تقی میر – سحر گہہ‌ عید میں دور سبو تھا

سحر گہہ‌ عید میں دور سبو تھا

پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا

غلط تھا آپ سے غافل گزرنا

نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا

چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ

کہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا

گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا

جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا

کرو گے یاد باتیں تو کہو گے

کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا

جہاں پر ہے فسانے سے ہمارے

دماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا

مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا

کہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا

کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے

کہ جھونکا باؤ کا کچھ مشکبو تھا

نہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکن

غبار اک ناتواں سا کو بہ کو تھا

Our Visitor

0 3 2 7 5 4
Users Today : 60
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 526
Users Last 30 days : 1983
Users This Month : 1226
Users This Year : 13035
Total Users : 32754
Views Today : 88
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1109
Views Last 30 days : 4318
Views This Month : 2678
Views This Year : 26857
Total views : 75472
Who's Online : 1
Your IP Address : 216.73.217.5
Server Time : 20/10/2026 2:29 PM
error: Content is protected !!