یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے- ناصر کاظمی
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
جبر سے ایک ہوا ذائقۂ ہجر و وصال
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آئے
یہ بھی آرائش ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم
حلقۂ فکر سے میدان عمل میں آئے
ہر قدم دست و گریباں ہے یہاں خیر سے شر
ہم بھی کس معرکۂ جنگ و جدل میں آئے
زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
Users Today : 61
Users Yesterday : 83
Users Last 7 days : 527
Users Last 30 days : 1984
Users This Month : 1227
Users This Year : 13036
Total Users : 32755
Views Today : 89
Views Yesterday : 174
Views Last 7 days : 1110
Views Last 30 days : 4319
Views This Month : 2679
Views This Year : 26858
Total views : 75473
Who's Online : 0