یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے- ناصر کاظمی
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
جبر سے ایک ہوا ذائقۂ ہجر و وصال
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آئے
یہ بھی آرائش ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم
حلقۂ فکر سے میدان عمل میں آئے
ہر قدم دست و گریباں ہے یہاں خیر سے شر
ہم بھی کس معرکۂ جنگ و جدل میں آئے
زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
Users Today : 56
Users Yesterday : 28
Users Last 7 days : 401
Users Last 30 days : 1437
Users This Month : 992
Users This Year : 6198
Total Users : 25917
Views Today : 103
Views Yesterday : 53
Views Last 7 days : 809
Views Last 30 days : 2601
Views This Month : 1866
Views This Year : 11855
Total views : 60470
Who's Online : 0